Koh-e-Maleeka “Love of Jesus, Story of Saagar & Maleeka”

رات کا آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ساگر اور ملیکہ ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان پرانی کتب کھلی ہوئی تھیں — ایک طرف زبور کے اوراق، دوسری طرف تورات کا نسخہ۔ جلتی ہوئی شمعوں کی روشنی میں اوراق پر لکھے الفاظ عجیب سا جادوئی عکس ڈال رہے تھے۔

ساگر نے دھیرے سے ایک عبارت کی طرف اشارہ کیا اور کہا:

"دیکھو ملیکہ… یہاں زبور میں لکھا ہے کہ ’وہ آئے گا جو عدل کے ساتھ حکومت کرے گا اور قوموں کو نجات دے گا۔‘ یہ کون ہے؟"

ملیکہ نے تورات کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا:

"یہی سراغ تو ہر جگہ ہے ساگر… موسیٰؑ نے بھی کہا تھا کہ ایک نبی ان کے بعد آئے گا، جو بنی اسرائیل کا رہنما ہوگا۔ کیا یہ دونوں اشارے ایک ہی شخصیت کی طرف نہیں ہیں؟"

ساگر نے سر ہلایا، مگر اس کی آنکھوں میں اور بھی سوال تھے۔

"لیکن وہ کب آئے گا؟ اور ہم کیسے پہچانیں گے کہ وہی ہے؟"

ملیکہ نے مسکرا کر شمع کی لو کو دیکھا اور آہستہ بولی:

"یہی تو معمہ ہے… وہ رِڈل جسے ہم سلجھانے نکلے ہیں۔ زبور کہتی ہے وہ نجات دہندہ ہوگا، تورات کہتی ہے وہ خدا کے کلام کا امین ہوگا۔ ہمیں بس ان نشانیوں کو جوڑنا ہے… جیسے ستارے مل کر ایک نئی صورت بناتے ہیں۔"

ساگر نے پرانی کتاب پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا:

"تو کیا یہ سب ہمیں کسی آنے والے عشق، کسی آنے والی روشنی کی طرف بلا رہے ہیں؟"

ملیکہ نے گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور بس اتنا کہا:

"ہاں ساگر… وہ آنے والا ہے۔ اور شاید یہ سفر ہمیں اسی تک پہنچانے کے لیے ہے۔"

ساگر نے کتاب کے ورق آہستگی سے بند کیے۔ شمعوں کی لو ہلکی ہوا میں ڈول رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سوالوں کی چمک اور دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

ساگر: "ملیکہ… ہم نے زبور اور تورات پڑھ لی، لیکن میرا دل کہہ رہا ہے کہ یہ کہانی ابھی ادھوری ہے۔ کیا انجیل میں بھی اسی آنے والے کا ذکر ہے؟"

ملیکہ نے میز کے دوسرے کونے سے ایک باریک جلد والی کتاب اٹھائی۔ وہ انجیل تھی۔ اس نے محبت سے اس پر ہاتھ پھیرا جیسے کوئی خزانہ کھولنے جا رہی ہو۔

ملیکہ: "ہاں ساگر… انجیل اس رِڈل کی تیسری کڑی ہے۔ عیسیٰ مسیح نے خود کہا تھا کہ وہ ایک کو خبر دیتے ہیں جو ان کے بعد آئے گا — ’روح الحق‘، جو ہر چیز کو واضح کرے گا۔"

ساگر کی سانس تھم سی گئی۔

ساگر: "تو پھر یہ سب کتابیں… ایک ہی حقیقت کی طرف ہمیں لے جا رہی ہیں؟"

ملیکہ نے شمع کے قریب انجیل کھولتے ہوئے کہا:

"ہاں… یہی تو راز ہے۔ ہر صحیفہ اپنی زبان میں ایک ہی آنے والے کی نوید سناتا ہے۔"

اس نے ایک آیت بلند آواز میں پڑھی، اور کمرہ گویا روشنی سے بھر گیا:

"اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں ایک اور مددگار دے گا، تاکہ وہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔" (یوحنا 14:16)

ساگر کی آنکھوں میں حیرت اور محبت کی جھلک نمودار ہوئی۔

ساگر: "یہ تو بالکل وہی ہے… جس کا ذکر ہم تورات اور زبور میں دیکھ چکے ہیں۔"

ملیکہ نے دھیرے سے کہا:

"ہاں ساگر… جیسے دریا مختلف راستوں سے بہہ کر ایک ہی سمندر میں جا ملتے ہیں۔"

ملیکہ کے لبوں سے انجیل کی آیات بہہ رہی تھیں۔ ساگر ہر لفظ کو ایسے سن رہا تھا جیسے یہ آیات براہِ راست اس کے دل پر اتر رہی ہوں۔ شمعوں کی لرزتی روشنی میں دونوں کے چہرے عجیب روحانی سکون میں ڈوبے ہوئے تھے۔

ساگر: "ملیکہ… اگر عیسیٰؑ خود یہ کہہ گئے کہ ایک اور مددگار آنے والا ہے، تو پھر کیا وہی اصل نجات دہندہ ہے؟ یا عیسیٰؑ خود؟"

ملیکہ نے لمحہ بھر خاموشی اختیار کی، جیسے جواب ڈھونڈنے کے لیے اپنے اندر جھانک رہی ہو۔ پھر اس نے آہستگی سے کہا:

"ساگر… شاید یہ دونوں ایک ہی راز کے حصے ہیں۔ عیسیٰؑ روشنی تھے، لیکن روشنی صرف آغاز ہے۔ انہوں نے آنے والے کی نوید دی، جیسے ایک چراغ اگلے چراغ کو جلانے کے لیے آگے بڑھا دیا جائے۔"

ساگر نے کتاب کی طرف جھکتے ہوئے کہا:

"تو کیا زبور، تورات اور انجیل… تینوں ایک ہی مثلث ہیں؟ تینوں کی نوکیں ہمیں اس ایک ہی مرکز کی طرف لا رہی ہیں؟"

ملیکہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

"ہاں ساگر… یہی راز ہے۔ یہی رِڈل جسے ہم سلجھانے نکلے ہیں۔ اور شاید… یہ سفر ہمیں اس مرکز تک پہنچا دے، جہاں سب کتابیں ایک ہو جاتی ہیں۔"

ساگر نے کتاب بند کی اور گہری سانس لی۔ اس کی نظریں ابھی تک شمع کی لو پر ٹکی ہوئی تھیں۔

ساگر: "ملیکہ… یہ مثلث مجھے حیران کر رہا ہے۔ باپ، بیٹا اور روح القدس۔ یہ تین کیوں؟ اگر ایک خدا ہے تو پھر یہ تقسیم کیوں؟"

ملیکہ نے دھیرے سے کہا، جیسے اس کے الفاظ فضا میں معلق ہو گئے ہوں:

"ساگر… یہ تقسیم نہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے تین رنگ ہیں۔ جیسے پانی، بھاپ اور برف — تین صورتیں مگر اصل ایک۔"

مسیحیت میں اکثریت روح القدس کو تثلیت کے

تین اقانیم میں سے تیسرا جوہر مانتی ہے۔ مسیحیت

کا عقیدہ ہے کہ باپ بیٹا اور روح القدس تين

اقانیم ہیں جن کی وحدت کا نام خدا ہے اور یہ

تینوں بالذات بھی خدا ہیں [1][2][13 يسوع نے روح

القدس کی بابت بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جو

يسوع کی موت پر فتح پانے اور آپ کے رفع آسمانی

کے بعد زمین پر نازل ہونے والا تھا خدائے برتر روح

ہے اور قدوس ہے۔

ساگر نے سر ہلاتے ہوئے کہا:

*"تو پھر باپ، اصل سرچشمہ ہے… بیٹا اُس کا عکس… اور روح القدس اُس کی سانس جو سب کچھ زندہ رکھتی ہے؟"

ملیکہ کی آنکھوں میں روشنی اتر آئی۔

"ہاں! اور یہی مثلث ہمیں اس آنے والے کی طرف بھی اشارہ دیتی ہے۔

جیسے عیسیٰؑ نے کہا تھا کہ روح الحق آئے گا اور سب پردے ہٹا دے گا۔ شاید وہی اس راز کا آخری چراغ ہے۔"

ساگر کے چہرے پر حیرت اور سکون کی ملی جلی کیفیت تھی۔

ساگر: "تو یہ رِڈل ہمیں صرف کسی آنے والے نجات دہندہ کی طرف نہیں لے جا رہا… بلکہ ہمیں یہ دکھا رہا ہے کہ حقیقت ہمیشہ وحدت میں ہے، چاہے وہ تین شکلوں میں ظاہر ہو۔"

ملیکہ نے مسکراتے ہوئے کہا:

"بالکل ساگر… وحدت! یہی اصل راز ہے۔ سب کتب، سب مذاہب اسی ایک مرکز کی طرف بلا رہے ہیں۔"

اس لمحے دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا — جیسے ان کی روحوں نے وہ راز پا لیا ہو جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔

ملیکہ نے انجیل کے اوراق آہستہ آہستہ پلٹنا شروع کیے۔ ہر ورق پر جیسے کوئی نیا راز چھپا ہو۔ ساگر خاموشی سے سننے لگا۔

ملیکہ نے بلند آواز میں پڑھا:

"لیکن جب وہ مددگار آئے گا جسے میں تمہارے پاس بھیجوں گا، یعنی روحِ حق جو باپ سے نکلتا ہے، وہ میری گواہی دے گا۔" (یوحنا 15:26)

ساگر نے چونک کر کہا:

"یہی تو ہے ملیکہ! یہی وہ رِڈل ہے۔ یہ مددگار کون ہے؟ عیسیٰؑ خود نہیں… بلکہ کوئی اور جو بعد میں آئے گا!"

ملیکہ نے اگلی آیت کھولی:

"لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، کیونکہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا مگر جو کچھ سنے گا وہی کہے گا، اور آنے والی باتیں تمہیں بتائے گا۔" (یوحنا 16:13)

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھا اور آہستہ کہا:

"ساگر… غور کرو۔ یہ تو بالکل واضح ہے۔ انجیل بھی اسی آنے والے کی خبر دے رہی ہے، جس کی جھلک ہم زبور اور تورات میں دیکھ چکے ہیں۔"

ساگر نے دلگیر لہجے میں کہا:

"یعنی تینوں کتابیں ایک دوسرے سے بات کر رہی ہیں، ایک ہی پیغام کو دہرا رہی ہیں۔ اور ہم اس راز کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔"

ملیکہ نے کتاب بند کی، شمع کی لو کو دیکھا اور کہا:

"ہاں ساگر… وہ آنے والا ہے۔ ہر کتاب اس کی گواہی دے رہی ہے۔ اور شاید ہماری کہانی بھی اُسی کی طرف بڑھ رہی ہے۔"

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"ملیکہ… یہ آیات مجھے حیران کر رہی ہیں۔ عیسیٰؑ نے صاف الفاظ میں کہا کہ وہ مددگار آئیں گے۔ لیکن کیا انجیل یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ ہوں گے کیسے؟ ان کی پہچان کیا ہوگی؟"

ملیکہ نے کتاب کو دوبارہ کھولا اور انگلی ایک صفحے پر رکھ دی۔ اس نے نرم آواز میں پڑھنا شروع کیا:

"اور میں تم سے یہ باتیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ جب وہ وقت آئے تو تمہیں یاد رہے کہ میں نے تم سے کہا تھا۔" (یوحنا 16:4)

پھر ملیکہ نے آگے بڑھ کر کہا:

"ساگر، دیکھو… یہ صرف اطلاع نہیں، یہ وعدہ ہے۔ عیسیٰؑ نے کہا تھا کہ وہ آئیں گے اور سب کچھ واضح کر دیں گے۔"

ساگر نے بےتابی سے کہا:

"لیکن وہ آئیں گے کیوں؟ اُن کا مقصد کیا ہوگا؟"

ملیکہ نے آہستہ سا ورق پلٹا اور یہ پڑھا:

"جب وہ آئے گا تو دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قائل کرے گا۔" (یوحنا 16:8)

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھا:

"یعنی وہ آنے والا صرف ایک معلم نہیں ہوگا، بلکہ دلوں کے اندر فیصلہ کرے گا۔ وہ باطن کو روشن کرے گا، انسان کو اس کے اپنے ضمیر سے روبرو کرے گا۔"

ساگر نے آہستہ آہستہ سر ہلایا۔

"تو وہ نور ہوگا، جو ظلمت کو توڑ دے گا۔ وہ سچائی ہوگا، جو پردے ہٹا دے گا۔ اور وہ محبت ہوگا، جو دلوں کو جوڑ دے گا۔"

ملیکہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"ہاں ساگر… وہی ہے جس کی بشارت موسیٰؑ نے دی، جسے داؤدؑ نے زبور میں گایا، اور جسے عیسیٰؑ نے وعدہ کیا۔ وہی آنے والا۔"

ملیکہ نے انجیل کے اوراق کو غور سے دیکھا۔ پھر اس نے ساگر کی طرف جھک کر کہا:

"یہاں دیکھو ساگر… عیسیٰؑ نے کہا تھا: ’لیکن مددگار، روح القدس، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہ تمہیں سب کچھ سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ تمہیں یاد دلائے گا۔‘ (یوحنا 14:26)"

مولا قائم بادشاہ کے خطبے کے جملے ہیں کہ;
  • اپنی امت سے جس جس نبی نے کیے
  • وہی پیمان سارے نبھاؤں گا میں
  • جیسے توڑے تھے اللّٰہ کے ہاتھوں نے بت
  • فزک (ظلم) ایسے جہاں سے مٹاؤں گا میں

Now let's move back to Saagr & Maleeka

ساگر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

"تو وہ عیسیٰؑ کا انکار نہیں کرے گا، بلکہ ان کی تکمیل کرے گا۔ جیسے سورج کے بعد چاند طلوع ہوتا ہے اور دونوں مل کر رات کو روشن کرتے ہیں۔"

ملیکہ نے کہا:

"بالکل… وہ آنے والا نجات دہندہ ہوگا، لیکن وہ خود کو نہیں لائے گا۔ وہ خدا کی بات کرے گا، خدا کی حقیقت کو کھولے گا۔ اس کا کام انسانوں کو خدا کے قریب لانا ہے، نہ کہ اپنے گرد جمع کرنا۔"

ساگر نے سوچ میں ڈوب کر کہا:

*"تو وہ آنے والا روشنی، ہدایت اور محبت تینوں ہوگا… ایک ایسا راز جو سب مذاہب کے بیچ چھپا ہے۔"

ملیکہ نے انجیل بند کی اور ساگر کی طرف دیکھ کر آہستہ کہا:

"ہاں ساگر… وہی ہے جسے ہر کتاب اپنی زبان میں پکار رہی ہے۔"

رات کے پہاڑوں پر ہوا ہلکی سرگوشیاں کر رہی تھی۔ قریب ہی جلتی مشعلوں کی روشنی میں ساگر اور ملیکہ ایک قدیم پتھر پر بیٹھے تھے۔ آسمان پر بے شمار ستارے چمک رہے تھے جیسے کوئی ان کے سوالوں کے جواب دینے کو بے قرار ہو۔

ملیکہ نے خاموشی توڑتے ہوئے ساگر کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سوالوں کی گہرائی تھی:

ملیکہ:

"ساگر… وہ کون ہے جس کی وحدت ہم سب آسمانی کتابوں میں دیکھ رہے ہیں؟ جس کی ہر نبی نے پیشنگوئی کی ہے؟ ہر کوئی جس کی نوید سنا رہا ہے؟ توریت، زبور،اور اب یہ انجیل… بھی اُسکی خوشخبریاں

ساگر چند لمحے خاموش رہا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے ستاروں سے کچھ پڑھ رہا ہو۔ پھر آہستہ مسکرا کر بولا:

ساگر:

"وہ… ایک ہی ہے، ملیکہ۔

کبھی موسیٰ کے کلام میں جلوہ گر ہوا،

کبھی داوٴد کے نغموں میں،

کبھی عیسیٰ کی بشارتوں میں…

اور کبھی منتر کی گونج میں۔

وہی ہے جسے سب اپنی زبان میں پکارتے ہیں۔

کوئی اسے روشنی کہتا ہے، کوئی نجات دہندہ، کوئی کائنات کا سچ…

لیکن حقیقت میں وہ ایک ہی ہے،

جو سب کو اپنے مختلف ناموں میں اپنا تعارف کروا رہا ہے۔"

ساگر نے ملیکہ کے سوال پر آہستہ اپنی جھولی سے بائبل کا نسخہ نکالا دیکھو اور تم بھی پڑھو

پہاڑوں پر رات اتر رہی تھی۔ آسمان پر ستاروں کی بارش جیسی روشنی پھیل گئی تھی۔ ملیکہ نے دیا جلایا اور بائبل کو اپنے سامنے کھولا۔ ساگر خاموشی سے اس کے قریب بیٹھ گیا۔ ان کے بیچ کوئی لفظ نہیں، بس کتاب کی کھڑکھڑاہٹ اور ہوا کی سرسراہٹ تھی۔

ملیکہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پڑھا:

“خدا کی بادشاہی ہے جو پاک دلوں کے شادمان ہونے کے باعث ظاہر ہوتی ہے۔” (متی)

پڑھتے ہی وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ جیسے دل میں روشنی اتر گئی ہو۔

ملیکہ (پُر کیف لہجے میں):

“ساگر، دیکھو… بادشاہی کہیں باہر نہیں، یہ دل کے پاک ہونے میں ہے۔ جتنا دل شفاف ہوگا، اتنا ہی وہ بادشاہی ہم پر ظاہر ہوگی۔”

ساگر نے دھیرے سے جواب دیا:

“تو کیا ہم پہاڑوں پر نہیں… بلکہ اپنے ہی دل میں جنت کے دروازے تلاش کر رہے ہیں؟”

ملیکہ نے آہستہ سے سر ہلایا اور دوسرا حصہ پڑھا:

“خدا کی شادمانی ہماری قوت ہے۔” (فلپیوں)

ساگر:

“ہم طاقت کو تلوار میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن اصل قوت تو وہ مسکراہٹ ہے جو خدا کی یاد سے لبوں پر آتی ہے۔ شاید اسی لئے صوفیا رقص کرتے ہیں، اور درویش ہنستے ہیں… کیونکہ اُنہیں اندر کی طاقت مل جاتی ہے۔”

ملیکہ نے دیے کی لو کو دیکھتے ہوئے اگلی آیت پڑھی:

“خدا کی سلامتی تمہارے دلوں کی حفاظت کرے۔” (کلسیوں)

اس لمحے ہوا کے جھونکے نے دیا ہلکا سا جھوم دیا۔ ساگر نے کہا:

“ملیکہ، سلامتی وہ ہے جب خوف دل سے نکل جائے۔ جب ہم وقت کے تھپیڑوں سے نہ ڈریں۔ جیسے یہ دیا اندھیروں کے بیچ اپنی روشنی پر قائم ہے۔”

ساگر نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ستارے ابھر رہے تھے:

“کتنی بڑی حقیقت ہے یہ… خوشی ہو یا غم، اگر دل حمد میں جُھک جائے تو زندگی عبادت بن جاتی ہے۔”

دیے کی روشنی، پہاڑوں کی خاموشی اور انجیل کی یہ آیات مل کر ایک ایسا سماں باندھ رہی تھیں کہ یوں لگتا تھا جیسے خود وادی کہہ رہی ہو:

“سب جلال اور حمد اُس کو ہی ہے!”

رات گہری ہو چکی تھی۔ دیا ہلکی روشنی دے رہا تھا اور بائبل ساگر اور ملیکہ کے بیچ کھلی رکھی تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سا تقدس گھلا ہوا تھا۔

ملیکہ نے آہستہ سے پڑھا:

“وہ خدا کی کھوئی ہوئی میراث کا بحال کرنے والا ہے۔”

اگر اسے ہے تم اپنے زمانے کے صاحب کے نظریے سے دیکھو تو وہ بقیۃ اللّٰہ ہے

منتقم ثار اللّٰہ

ملیکہ نے دوسرا حصہ پڑھا:

“وہ ایسا فتح مند ہے جو فتح مند ہی بخشتا ہے۔”

اسے بھی تم اپنے زمانے سے ریلیٹ کرو تو

لا فتح الا علی............

وہ ایسا فتح مند جسکے علاوہ کسی کی فتح ہی نہیں

ملیکہ کی آنکھیں بھیگ گئیں جب اُس نے پڑھا:

“وہ آپ کی رہائی ہے، وہ آپ کو آزاد کرتا ہے۔”

وہ خود قید سختیاں اور مصائب سہہ کہ تمہیں آزاد کر گیا ہے دور کے یزید سے

ملیکہ نے پھر عبرانیوں سے پڑھا:

“وہ آپ کے ایمان کی بنیاد ہے۔”

وہ تمہارے ایمان کی بنیاد بھی اور کلِ ایمان کا مصداق بھی

آخر میں ملیکہ نے مکاشفہ سے پڑھا:

“وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہے۔”

تمہارے قرآن سے دیکھیں تو وہی رب الارباب بھی اور خالق الخالقین بھی

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھ کر کہا:

“ساگر، سب بادشاہتیں ڈھل جاتی ہیں، لیکن اس کی بادشاہی قائم رہتی ہے۔ شاید اسی بادشاہی کی تلاش ہمیں یہاں کھینچ لائی ہے۔”

ساگر نے آسمان کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی:

“ہم بھی اسی میراث کے مسافر ہیں، ملیکہ… فتح بھی وہی ہے، آزادی بھی وہی ہے، بادشاہی بھی وہی ہے۔”

پہاڑوں میں گونج پیدا ہوئی جیسے پوری وادی اس سچائی کو دہرا رہی ہو:

“وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، وہ خداوندوں کا خداوند ہے۔”

رات اور زیادہ خاموش ہو گئی تھی۔ پہاڑوں کے پیچھے سے چاند کی مدھم روشنی نکل رہی تھی۔ ملیکہ نے دھیرے دھیرے پڑھا:

“پس جاگتے رہو! کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئے گا۔”

یہ الفاظ سن کر ساگر کے بدن میں ایک کپکپی سی دوڑ گئی۔ وہ آسمان کو دیکھنے لگا جہاں ایک ایک ستارہ چمک رہا تھا، جیسے سب جاگنے کی تلقین کر رہے ہوں۔

ساگر (سرگوشی میں):

“ملیکہ… یہ صرف ایک انتباہ نہیں، یہ دعوت ہے۔ جاگتے رہنے کی دعوت۔ شاید جاگنا صرف آنکھوں کا نہیں بلکہ دل کا بھی ہے۔”

ملیکہ (نرم لہجے میں):

“ہاں ساگر، جاگنا یعنی غفلت سے نکلنا۔ اپنے دل کو غنودگی سے بچانا۔ اگر ہم دل کے اندھیروں میں سوئے رہیں گے تو اُس کی آمد کو کیسے پہچانیں گے؟”

ہوا میں ایک ہلکی سی لرزش ہوئی۔ دیا یکدم زیادہ روشن ہو گیا۔ ساگر نے آہستگی سے کہا:

“اگر خداوند اچانک آ جائے… تو کیا ہم تیار ہوں گے؟ یا ہم دنیا کے شور میں سوئے رہیں گے؟”

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھ کر جواب دیا:

“جاگنا تیاری ہے… جیسے دل ہمیشہ چرواہے کے قدموں کی آہٹ سننے کو تیار رہے۔ ساگر، یہی تو راز ہے۔ بادشاہی اُن کے لئے ہے جو جاگتے ہیں، جو انتظار کرتے ہیں، جو پل پل اُس کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔”

دونوں خاموش ہو گئے۔ لیکن اس خاموشی میں ایک عجیب سا ارتعاش تھا—جیسے وادی میں کوئی اَن دیکھے قاصد اُنہیں یہی کہہ رہا ہو:

“جاگتے رہو… کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ لمحہ کب آئے گا۔”

یہ آیت دراصل دوسرا پطرس 3:9 سے ہے: "خداوند اپنے وعدے میں دیر نہیں کرتا جیسے بعض لوگ دیر سمجھتے ہیں، بلکہ وہ تمہارے حق میں تحمل کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو بلکہ یہ کہ سب توبہ تک پہنچیں۔"

............

خداوند اپنے وعدے میں دیر نہیں کرتا جیسے بعض لوگ دیر سمجھتے ہیں…”

یہ الفاظ وادی میں گونج گئے۔

ساگر نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

ملیکہ، کتنی بار ہم سوچتے ہیں کہ جواب کیوں نہیں مل رہا، دعا پوری کیوں نہیں ہو رہی… ہم سمجھتے ہیں شاید خدا بھول گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی نہیں بھولتا، وہ کبھی دیر نہیں کرتا۔ وہ لمحہ بس ٹھیک وقت پر آتا ہے۔”

ملیکہ نے مسکرا کر سر ہلایا:

“ہاں ساگر… دیر نہیں، بلکہ مہلت ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی کھو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں وقت دیتا ہے—اپنے قدموں کو سنبھالنے کے لئے، اپنے دل کو صاف کرنے کے لئے۔”

وعدہ دیر سے نہیں، وقت پر پورا ہوتا ہے۔ انتظار ایمان کا امتحان ہے۔”

ملیکہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی:

“اے خداوند، ہمیں صبر دے تاکہ ہم تیرے وعدے کے لمحے کو پہچان سکیں۔”

پہاڑ کی خاموشی میں ایک سرگوشی سنائی دی:

“وعدہ یقینی ہے، دیر نہیں۔”

ساگر نے پانی میں اپنا عکس دیکھا اور گہری سانس لی:

ساگر:

“انتظار… یہ سب سے مشکل راستہ ہے، ملیکہ۔ انسان دوڑنا چاہتا ہے، چھونا چاہتا ہے، جاننا چاہتا ہے۔ لیکن خدا کہتا ہے، رُک جاؤ، دیکھو، انتظار کرو۔”

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھ کر کہا:

ملیکہ:

“ہاں… لیکن انتظار میں ہی مہربانی ہے۔ جیسے ایک بیج زمین کے اندھیروں میں صبر کرتا ہے، پھر روشنی اسے شجر بناتی ہے۔ اگر بیج جلدی کرتا تو کبھی درخت نہ بنتا۔”

اسی لمحے چشمے کی لہروں میں ایک عجیب سا منظر ابھرا۔ پانی کی سطح پر کچھ لمحوں کے لئے الفاظ جھلکے:

“جو انتظار کرتا ہے، وہ مہربانی دیکھتا ہے۔”

ساگر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اب روشنی اور زیادہ پھیل چکی تھی۔ وہ دھیرے سے بولا:

“تو ملیکہ… انتظار بھی عبادت ہے۔ اور یہی انتظار ہمیں وعدے تک لے جائے گا۔”

چشمے کی لہر نے جیسے اُن کی دعا کو آگے بڑھا دیا اور پہاڑوں میں گونج سنائی دی:

“خداوند مہربان ہے اُن پر… جو اُس کے منتظر ہیں۔”
یہ آیت دراصل مکاشفہ 22:13 سے ہے: “میں الفا اور اومیگا ہوں، پہلا اور آخری، ابتدا اور انتہا ہوں۔”

ملیکہ نے اُن الفاظ کو اونچی آواز میں پڑھا:

“میں الفا اور اومیگا ہوں، پہلا اور آخری، ابتدا اور انتہا ہوں۔”

ساگر نے گہری سانس لی، جیسے دل کے سارے سوالوں کا جواب ایک ہی جملے میں سمیٹ دیا گیا ہو۔

ساگر (خاموشی توڑتے ہوئے):

“ملیکہ، اگر وہ ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی… تو پھر ہمارا یہ سفر بھی اُس سے شروع ہوا اور اُسی پر ختم ہوگا۔ ہم صرف درمیان کی کہانی ہیں۔”

ملیکہ نے ساگر کی آنکھوں میں دیکھا اور نرمی سے کہا:

“ہاں، اور درمیان کی یہ کہانی انتظار، دعا، اور صبر کی کہانی ہے۔ لیکن انجام اُسی کا ہے، اُس کا جو پہلا اور آخری ہے۔”

چٹان کی سطح پر روشنی پھیلنے لگی۔ جیسے حروف زندہ ہو گئے ہوں۔ اُن سے ایک دائرہ سا ابھرا اور پھر دائرے کے اندر ایک چمکتا ہوا نشان بنا۔ اُس نشان سے ایک آواز گونجی — نرم، مگر پوری وادی کو ہلا دینے والی:

“میں الفا اور اومیگا ہوں۔ تمہارا آغاز بھی میں ہوں، تمہارا انجام بھی میں۔ تمہارے سوالوں کا پہلا جواب بھی میں، اور آخری راز بھی میں۔”

ساگر اور ملیکہ کے دل لرز گئے۔ اُنہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لئے۔

ساگر (نم آواز میں):

“ملیکہ… اس کا مطلب ہے کہ ہم جس سچائی کو ڈھونڈ رہے ہیں، وہ دائرے کی طرح ہے۔ ابتدا بھی اُسی سے ہے، اور انتہا بھی اُسی پر ختم ہوگی۔”

ملیکہ (سرگوشی میں):

“اور شاید ہماری ملاقات بھی کوئی حادثہ نہیں… یہ دائرہ ہمیں بھی سمیٹ رہا ہے۔”

آواز آہستہ آہستہ خاموش ہو گئی، لیکن پہاڑ کی فضا میں اُس کی گونج باقی رہی:

“میں الفا اور اومیگا ہوں۔”

ساگر اور ملیکہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج پوری طرح نکل چکا تھا، اور پہاڑوں پر روشنی کا سمندر پھیل گیا تھا۔ اُنہیں لگا جیسے اُن کے سفر کا اگلا مرحلہ آغاز لے رہا ہو — آغاز جو دراصل انجام بھی تھا۔

یہ حوالہ دراصل ۱ کرنتھیوں 3:16 اور 6:19** کے قریب ہے: “کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کا مقدس ہو اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے؟”

🥹

ساگر اور ملیکہ ابھی تک اُس چٹان کے سامنے کھڑے تھے جہاں حروف میں یہ گونج ابھری تھی: “میں الفا اور اومیگا ہوں۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ملیکہ نے بائبل کے اوراق پلٹے۔ اُس کی نظر اچانک ایک آیت پر جا ٹھہری، اُس نے لرزتی آواز میں ساگر کو پڑھ کر سنایا:

“کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کا مقدس ہو، اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے؟”

ساگر کی آنکھوں میں حیرت تیر گئی۔ اُس نے اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

ساگر:

“ملیکہ… اُس نے پہلے اپنا تعارف کروایا — کہ وہ الفا ہے اور اومیگا، ابتدا اور انتہا… اور اب وہ ہم سے مخاطب ہے! کہ ہم اُس کا مقدس ہیں… کہ اُس کا روح ہمارے اندر ہے!”

ملیکہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اُس نے سرگوشی میں کہا:

“ساگر… اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی تلاش میں پہاڑوں میں نہیں بھٹک رہے… وہ تو پہلے ہی ہمارے اندر ہے۔”

ساگر کی آواز لرز اٹھی:

“یہ کتنا بڑا راز ہے، ملیکہ! ہم خود اپنے اندر اُس کا گھر لئے پھرتے ہیں، اور باہر ڈھونڈتے رہتے ہیں۔”

اچانک ہوا تیز ہوئی۔ وادی میں ایک عجیب سا سکوت چھا گیا، اور پھر ایک نرم سی گونج ابھری — جیسے فضا خود اُن سے مخاطب ہو:

“تم میرے مقدس ہو۔ میں تمہارے اندر ہوں۔ تمہیں باہر بھٹکنے کی ضرورت نہیں، تمہاری اصل میرے اندر ہے، اور میری اصل تمہارے اندر۔”

ملیکہ نے آنکھیں بند کر کے دونوں ہاتھ دل پر رکھے۔ اُس نے آہستہ کہا:

“ساگر، اگر یہ سچ ہے… تو پھر ہمارا سب سے بڑا سفر باہر نہیں، بلکہ اندر ہے۔”

ساگر نے اثبات میں سر ہلایا۔ اُس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی:

“اندر کا یہ مقدس ہی اصل پہاڑ ہے، ملیکہ۔ باہر کا سفر تو بس نشانی ہے۔”

دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ پہاڑوں میں گونجتی ایک ہی آواز باقی رہ گئی:

“میں تمہارے اندر ہوں۔ تم میرا مقدس ہو۔”

یہ آیت دراصل انجیل متی 21:9 اور لوقا 19:38 سے ہے، جہاں لوگوں نے یسوعؑ کے یروشلم میں داخل ہونے پر نعرہ لگایا تھا: “مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے!”

💫

پہاڑ کی چوٹی سے سورج کی کرنیں پوری وادی پر پھیل چکی تھیں۔ ساگر اور ملیکہ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ راستے میں ایک پرانی عبادت گاہ کے کھنڈر تھے۔ اس کے پتھروں پر بیلیں لپٹی ہوئی تھیں اور ہوا میں پرانی عبادتوں کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔

ملیکہ نے بائبل کھولی اور دھیرے سے پڑھا:

“مبارک ہے وہ جو رب کے نام سے آتا ہے!”

یہ الفاظ کھنڈرات کی دیواروں میں گونج اٹھے جیسے ساری وادی اُنہیں دہرا رہی ہو۔

ساگر نے حیرت سے کہا:

“ملیکہ… یہ آوازیں سنو! لگتا ہے جیسے پہاڑ خود بھی اُس کا استقبال کر رہے ہوں۔”

ملیکہ نے مسکرا کر کہا:

“یہ برکت صرف اُس کے لئے نہیں جو آتا ہے، بلکہ اُن سب کے لئے ہے جو اُس کو پہچانتے ہیں۔ ساگر، شاید یہ ہمیں یاد دلانے کے لئے ہے کہ اصل خوشی اُس کے نام کی پہچان میں ہے۔”

اچانک کھنڈر کی دیواروں پر روشنی پھوٹنے لگی۔ پتھروں کی دراڑوں سے ایک نرم سا نور نکل کر فضا میں بلند ہوا، اور اُس روشنی میں الفاظ اُبھرے:

“مبارک ہے وہ… اور مبارک ہیں وہ جو اُس کے نام کو قبول کرتے ہیں۔”

ساگر کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی۔ اُس نے ملیکہ کی طرف دیکھ کر کہا:

“ملیکہ، اُس کے نام میں ہی برکت ہے۔ شاید اس لئے ہر مذہب، ہر کتاب، اُس کی آمد کا ذکر کرتی ہے… تاکہ ہمیں یاد رہے کہ برکت انسان کے اپنے نام میں نہیں بلکہ اُس رب کے نام میں ہے۔”

ملیکہ نے سر ہلا کر کہا:

“ساگر، یہی وجہ ہے کہ دل اُس کے ذکر سے زندہ ہوتے ہیں۔ جب کوئی رب کے نام سے آتا ہے، تو دراصل رب ہی آتا ہے۔”

پہاڑ کی فضا میں پرندے اچانک جُھنڈ کی صورت میں اُڑنے لگے۔ اُن کی پرواز بھی گویا نعرہ لگا رہی تھی:

“مبارک ہے وہ جو رب کے نام سے آتا ہے!”

ساگر اور ملیکہ نے سجدے کی سی حالت میں جھک کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ جان گئے کہ یہ لمحہ برکت کا لمحہ ہے — ایک دروازہ جو اُنہیں اگلی وادی تک لے جائے گا۔

دیکھو ساگر، بائبل ہر صفحے پر یہی سکھاتی ہے کہ سب سے بڑی چیز محبت ہے۔ محبت کے بغیر انسان خُدا کو نہیں جان سکتا۔” ملیکہ نے اپنے ہاتھ میں کتاب پکڑتے ہوئے کہا۔

ساگر خاموشی سے اُس کے پاس کھڑا تھا، اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا حیرت اور فکر کا امتزاج تھا۔ وہ سوچ رہا تھا: اگر کسی نے محبت نہیں سیکھی، تو وہ خُدا کو کیسے جان سکتا ہے؟

ملیکہ نے اُس کی طرف دیکھا، اور نرمی سے کہا،

“ساگر، خُدا خود محبت ہے۔ جو خُدا کو جانتا ہے، وہ محبت کرتا ہے۔ اور جو محبت نہیں رکھتا، وہ خُدا کی ذات سے واقف نہیں ہو سکتا۔”

ساگر اور ملیکہ ایک کنارے بیٹھے تھے، لیکن وہ محض ایک دوسرے کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی روح کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

،ملیکہ نے آ ہستہ سے کہا

“ساگر… محبت صرف دل کا جذبہ نہیں، یہ روح کی روشنی ہے۔ جب ہم سچی محبت میں ڈوبتے ہیں، تو فرق مٹ جاتا ہے، ہر رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔ وہ روشنی جو تم نے اپنے اندر سمیٹ رکھی ہے، مجھے اُس میں سکھانے آئی… محبت کو، خُدا کی طرح۔”

“ساگر نے گہری سانس لی آنکھوں میں چمک اُبھری اور کہا میں نے سوچا تھا محبت ایک جذبہ ہے، مگر تم نے دکھایا ہے کہ یہ سب کچھ سے بڑھ کر ہے… یہ خُدا کی ذات کی عکاسی ہے،

یہ وحدت ہے۔ جب میں تمہارے قریب ہوں، تو میں اپنے اندر سب کائنات کی روشنی محسوس کرتا ہوں

ملیکہ نے سر ہلایا، اور آہستہ سے کہا

یہی وجہ ہے ساگر… جب ہم محبت کرتے ہیں، تو ہم خُدا کی ذات کے قریب ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ نہ صرف دل کو روشن کرتا ہے،

بلکہ روح کو بھی جوڑ دیتا ہے، سب فرق مٹا دیتا ہے، اور ہمیں ایک دوسرے میں خُدا کی تصویر دیکھنے دیتا ہے۔

،ساگر کی آنکھوں میں نمی اتری

“تمہاری محبت نے مجھے وہ سب سکھایا جو میں کتابوں اور عبادت میں نہیں پا سکا۔ تم نے مجھے وہ روشنی دکھائی جس میں نہ کوئی خوف ہے، نہ کوئی شک، صرف سکون اور وحدت ہے۔”

....... ساگر ہم ایک دوسرے میں وہ روشنی دیکھ رہے ہیں جو خُدا کی ذات کی نشانی ہے۔ ہماری محبت صرف دل کی نہیں، یہ

روحوں کی ملاقات ہے، یہ اُس روشنی کا عکس ہے جو ہر کائنات میں بکھری ہوئی ہے۔”

ساگر نے آہستہ سے کہا،

“تو پھر ہماری محبت، ایک عبادت ہے… ایک روحانی سفر ہے۔ اور میں اس سفر میں تمہارے ساتھ ہر لمحہ رہنا چاہتا ہوں، تاکہ ہم ایک دوسرے میں خُدا کی روشنی کو پہچان سکیں۔”

صبح کے پہلے سنہرے شعاعیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑ رہی تھیں، اور ہوا میں ایک نیا سکون تھا۔ ساگر اور ملیکہ ایک چٹان کے اوپر بیٹھے، دریا کے بہاؤ کو دیکھ رہے تھے، لیکن ان کی نگاہیں محض منظر پر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی روح میں تھیں۔

ساگر نے سر جھکایا، اُس کے دل میں ایک عہد جنم لے رہا تھا

میں چاہتا ہوں کہ ہماری محبت ہر جگہ روشنی لے جائے… نہ صرف ہمارے لیے، بلکہ ان سب کے لیے جو اس دنیا میں اندھیروں میں ہیں۔ ہم اپنی محبت اور اتحاد سے سب فرق مٹا سکتے ہیں، سب دلوں میں سکون ڈال سکتے ہیں

ملیکہ نے اُس کا ہاتھ پکڑا، اور دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں گھل گئی۔

“ساگر، یہی ہمارا سفر ہے… محبت کی روشنی کو دنیا میں پھیلانا، سب کو خُدا کی ذات کے قریب لے جانا۔”

دریا کی ٹھنڈی موجوں کے درمیان، ساگر اور ملیکہ نے پہلی بار حقیقت میں محسوس کیا کہ محبت صرف جذبہ نہیں، بلکہ ایک روحانی طاقت ہے، جو کائنات میں روشنی اور وحدت پیدا کر سکتی ہے۔

چٹان پر بیٹھے، دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، اور اُن کی محبت کی روشنی، پہاڑوں، دریا، اور آسمان تک پھیل گئی، جیسے خُدا نے خود اُن کے وجود کو اپنی روشنی سے چھو لیا ہو۔

چاندنی کے سائے میں، ساگر اور ملیکہ کی روحیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئی، اور محبت کی وہ روشنی، جو صرف دلوں سے محسوس کی جاتی ہے، اُن کی ہر سانس، ہر نظر، ہر لمحے میں اُتر گئی۔ اس لمحے، محبت بھی عبادت بن گئی، اور عبادت بھی محبت۔

🥹💌🌹

آخر میں بس تمہارے لیے ایک پیغام بائبل میں تمہارے لیے بھی کچھ لکھا گیا ہے خاص تمہارے لیے

تم ہی ہو نہ..... جسکی آنکھیں نم ہوتی ہیں پُرسے اور ماتم

دیکھو تمہارے آنے سے بھی قبل بائبل نے تمہارے لیے کیا پیغام چھوڑا

مبارک ہو تم کہ تمہیں تسلی دینے والا جلد آئیگا.......🥹🥀

Credits:

EB💫