Koh-e-Maleeka A Voyage to sacred sUMMITs

پہاڑوں کی خاموش فضاؤں میں ایک اور باب کھلتا ہے۔ یہ باب صرف ایک نبی کے نہیں، بلکہ اُس دین کا ہے جس نے خدا کی شریعت کو تختیوں پر لکھوا کر انسان کو راستہ دکھایا۔ یہ موسیٰؑ کی کہانی ہے، وہی جنہیں کوہِ طور پر خدا سے ہمکلامی کا شرف ملا۔

رات کا پھیلتا ہوا سکوت تھا۔ آسمان پر ستاروں کی قطاریں کسی روشن صحیفے کی مانند بکھری ہوئی تھیں۔ ساگر اور ملیکہ ایک جلتی ہوئی آگ کے پاس بیٹھے تھے۔ اُن کے سامنے پہاڑوں کی پرچھائیاں اور فضا میں گھلی ہوئی گونج—جیسے وقت خود خاموشی کے ساتھ سن رہا ہو۔

ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"ساگر! کیا تمہیں پتا ہے کہ یہ وہی پہاڑ ہیں جن سے موسیٰؑ کی یادیں جُڑی ہیں؟ موسیٰؑ جنہوں نے کوہِ طور پر خدا سے ہمکلامی کی، اور بنی اسرائیل کے لئے شریعت لے کر اترے۔"

ساگر نے آگ کے شعلوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا:

"ہاں، میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ خدا نے اُنہیں تختیاں عطا کیں۔ وہ شریعت محض قوانین نہیں تھیں بلکہ ایک ایسا راستہ تھیں جو انسان کو خالق کے قریب لے جاتی ہے۔"

ملیکہ نے اپنی چادر سمیٹتے ہوئے جواب دیا:

"میں سوچتی ہوں کہ موسیٰؑ کے کلام میں صرف بنی اسرائیل ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ایک اشارہ ہے۔ جب وہ کہتے ہیں ’ہمارا خداوند ایک ہے‘ تو یہ توحید کا اعلان ہے، ایک ایسی حقیقت جو تمام مذاہب میں رچی بسی ہے۔"

ساگر نے گہری سانس لی:

"اور موسیٰؑ نے ایک اور بات کہی تھی، یاد ہے؟ تورات میں لکھا ہے کہ خدا ایک نبی بھیجے گا جو موسیٰؑ کی طرح ہوگا، لیکن اُس کا کلام ساری دنیا تک پہنچے گا۔"

ملیکہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی:

"ہاں، یہی تو سب سے بڑی بشارت ہے۔ وہ نجات دہندہ، جس کا انتظار ہر امت نے اپنی اپنی طرح کیا۔ یہودیت میں اُسے مسیح کہا گیا، اور دوسری روایات میں اُس کی الگ پہچان بنی۔

مگر اصل بات یہ ہے کہ موسیٰؑ نے خود ایک وعدہ چھوڑا تھا—کہ کلامِ خدا ایک دن دوبارہ اترے گا۔"

چند لمحے خاموشی چھا گئی۔ پہاڑ جیسے گواہ بنے بیٹھے تھے۔ آگ کے شعلے اوپر کو لپک کر ایک مقدس صحیفے کی لکیریں بنا رہے تھے۔

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"ملیکہ، مجھے لگتا ہے ہم دونوں بھی موسیٰؑ کے دیے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں—خدا کو تلاش کرنے کے راستے پر۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اس زمانے کے مسافر ہیں ۔"

ملیکہ نے مسکرا کر جواب دیا:

"ہاں ساگر، مگر اُن کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔

رات کے آسمان پر ستارے خاموش مگر گواہ تھے۔ ساگر اور ملیکہ پہاڑ کی چوٹی پر آگ کے قریب بیٹھے تھے۔ فضا میں ایک ایسی سکون بخش ہوا چل رہی تھی جو گویا پرانے زمانوں کی گونج اپنے ساتھ لیے ہوئے تھی۔

ملیکہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

"ساگر، موسیٰؑ کی کہانی بھی تو انہی پہاڑوں سے جُڑی ہے۔ وہ لمحہ جب ایک انسان کوہِ طور پر گیا اور خدا سے ہمکلام ہوا۔ تم سوچ سکتے ہو کہ انسان اور خدا کا براہِ راست مکالمہ کیسا ہوگا؟"

ساگر نے آہستہ سے سر ہلایا:

"وہی تو… موسیٰؑ کو جو شرف ملا وہ بے مثال ہے۔ تورات کے کلمات میں یہ آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔"

ملیکہ نے ساگر کی طرف جھکتے ہوئے کہا:

"لیکن ساگر، سب سے حیرت انگیز تو وہ بشارت ہے جو موسیٰؑ نے دی تھی۔"

ساگر نے مسکراتے ہوئے تورات کا حوالہ دیا:

"میں اُن کے لئے اُن ہی کے بھائیوں میں سے ایک نبی برپا کروں گا، جیسا تُو ہے، اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا، اور وہ اُن کو سب کچھ بتائے گا جو میں اُسے حکم دوں گا۔" (استثنا 18:18)

ساگر نے کہا:

"دیکھو ملیکہ، یہ وعدہ ہے ایک اور نبی کا… موسیٰؑ کی طرح۔ جسے خدا اپنا کلام دے گا اور وہ سب کو سچائی کی طرف بلائے گا۔"

ملیکہ کی آنکھوں میں روشنی اُتر آئی:

"یہی تو سب سے بڑی حقیقت ہے ساگر۔ موسیٰؑ کا دین ایک وعدے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اُس وعدے پر قائم رہتا ہے۔ نجات دہندہ کا وعدہ، شیلوہ کا انتظار… یہی وہ دھاگہ ہے جو سب مذاہب کو جوڑتا ہے۔"

پہاڑ خاموش کھڑے تھے، آگ کے شعلے جیسے صحیفے کی سطریں بنا رہے تھے۔ ساگر اور ملیکہ دونوں کے دلوں میں ایک ہی احساس جاگا—موسیٰؑ کی شریعت وقت کی قید سے آزاد ہے۔ اُس میں توحید، عدل اور ایک عظیم وعدہ پوشیدہ ہے، اور یہی وعدہ اُن کی اپنی جستجو کو ایک نئی سمت دے رہا تھا۔

پہاڑ کی رات اور گہری ہو گئی تھی۔ آگ کے شعلے اب دھیرے دھیرے مدھم ہو رہے تھے، لیکن ملیکہ اور ساگر کی گفتگو میں ایک نئی روشنی جاگ اٹھی تھی۔

ساگر نے ہلکی آواز میں کہا:

"ملیکہ، تم نے سنا ہوگا کہ موسیٰؑ کے بعد بنی اسرائیل ہمیشہ ایک آنے والے نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں۔ وہ اُسے شیلوہ کہتے ہیں

ساگر نے تورات کا ایک حوالہ دیا:

"لاٹھی یہوداہ سے جدا نہ ہوگی، اور نہ سرداری اُس کی نسل سے، جب تک کہ شیلوہ نہ آ جائے، اور قومیں اُس کے فرمانبردار ہوں گی۔" (پیدائش 49:10)

ساگر نے کہا:

"یہ یعقوبؑ کی وصیت ہے، جو تورات میں درج ہے۔ یہاں شیلوہ اُس ہستی کو کہا گیا ہے جس کے آنے پر تمام قومیں اُس کی فرمانبردار ہو جائیں گی۔"

ملیکہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے لمحہ بھر سوچا اور آہستہ کہا:

"کتنی عجیب بات ہے ساگر… موسیٰؑ کی شریعت عدل اور توحید کا درس دیتی ہے، اور پھر یہ بشارت آتی ہے کہ ایک دن کوئی آئے گا جو سب کو ایک کر دے گا۔ گویا عدل اپنی انتہا کو اُس نجات دہندہ میں پا لے گا۔"

ساگر نے جواب دیا:

"ہاں، اور یہی وہ ربط ہے جو ہمیں آج یہاں بیٹھ کر سمجھنا ہے۔ موسیٰؑ کے الفاظ صرف تاریخ نہیں ہیں، وہ ہمارے آج اور کل کا حصہ ہیں۔ شیلوہ، یا نجات دہندہ، وہی ہستی ہے جسے ہر مذہب نے اپنے اپنے انداز میں یاد کیا۔"

ملیکہ کی آواز میں ٹھہراؤ اور یقین تھا:

"ہاں ساگر، ہمارا سفر بھی یہی تو ہے۔ ہم کسی نئی شریعت کے متلاشی نہیں، بلکہ اُس وعدے کے گواہ بننے کے خواہش مند ہیں جو ازل سے دیا گیا ہے۔

یہ راز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر مذہب، ہر کتاب اور ہر کلام آخرکار ایک ہی سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔"

آسمان پر بادلوں کے پیچھے سے چاند جھانک رہا تھا۔ ساگر اور ملیکہ کی گفتگو موسیٰؑ کی شریعت سے نکل کر یہودیت کی تاریخ اور اُس کے مذہبی مقامات پر جا پہنچی۔

ساگر نے آہستگی سے کہا:

"ملیکہ، تم نے کبھی سوچا ہے کہ یہودی آج بھی یروشلم کی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر کیوں روتے ہیں؟"

ملیکہ نے نگاہیں آسمان پر گاڑتے ہوئے جواب دیا:

"ہاں ساگر، وہ دیوار جسے ہم دیوارِ گریہ کہتے ہیں، دراصل ہیکلِ سلیمانی کی باقیات ہیں۔ یہودی اُسے اپنا سب سے مقدس مقام مانتے ہیں۔ وہ وہاں روتے ہیں کیونکہ اُن کا ہیکل مسمار ہو گیا، اور اُن کا ایمان ہے کہ نجات دہندہ کے آنے پر وہ ہیکل دوبارہ تعمیر ہوگا۔"

ساگر نے غور سے پوچھا:

"یعنی اُن کے آنسو صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی اُمید بھی ہیں؟"

ملیکہ نے اثبات میں سر ہلایا:

"بالکل۔ دیوارِ گریہ پر اُن کی دعائیں ایک ہی بات کے گرد گھومتی ہیں—کہ شیلوہ آئے، اور اُنہیں پھر سے ایک قوم کی صورت میں اُس خدا کی بارگاہ تک پہنچائے جس کے حضور وہ موسیٰؑ کے عہد کے وارث ہیں۔"

ساگر نے لمحہ بھر کو خاموشی اختیار کی، پھر بولا:

"اور ہیکل…؟ اُس کا ذکر تورات میں بھی ہے نا؟"

ملیکہ نے نرمی سے کہا:

"ہیکلِ سلیمانی صرف پتھروں کی عمارت نہیں تھی، ساگر۔ وہ خدا کی سکونت کی علامت تھی۔ وہاں خدا کی حضوری محسوس کی جاتی تھی۔ جب وہ ہیکل اجڑ گیا تو گویا بنی اسرائیل کا دل بھی اجڑ گیا۔ اسی لئے اُن کے ایمان میں یہ بات راسخ ہے کہ جب نجات دہندہ آئے گا تو وہ ہیکل دوبارہ آباد ہوگا اور عدل اپنی اصل شکل میں زمین پر اُترے گا۔"

ساگر نے آگ کے شعلوں کو دیکھتے ہوئے گہری آواز میں کہا:

"کیا عجیب ہے ملیکہ… ایک دیوار کے سائے میں پوری قوم صدیوں سے کھڑی ہے، صرف ایک وعدے کے انتظار میں۔ اور یہ وعدہ موسیٰؑ کے الفاظ میں ہمیں بھی چھو جاتا ہے۔"

ملیکہ نے دھیرے سے کہا:

ہاں ساگر، یہی تو راز ہے۔ ہر مذہب، ہر قوم اپنے اپنے انداز میں شیلوہ کا انتظار کر رہی ہے۔ کوئی دیوارِ گریہ پر، کوئی اپنے دل کی تنہائی میں… مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل انتظار اُس نور کا ہے جو تمام دیواروں کو گرا دے گا اور انسان کو براہِ راست خدا سے جوڑ دے گا۔"

پہاڑوں کی فضا میں اب ایک خاص سکون اتر آیا تھا۔ آگ کی راکھ مدھم ہو کر ٹھنڈی ہونے لگی تھی، لیکن ملیکہ اور ساگر کی گفتگو جیسے اندر ہی اندر جلتی جا رہی تھی۔

ساگر نے کہا:

"ملیکہ، شریعتِ موسوی صرف قانون نہیں تھی، بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک مکمل دستور تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہودی آج بھی اپنی عبادات میں موسیٰؑ کے کلمات کو زندہ رکھتے ہیں۔"

ملیکہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"ہاں ساگر، اُن کی عبادات بہت گہری ہیں۔ مثال کے طور پر اُن کی نماز، جسے تفیلا کہتے ہیں۔ وہ دن میں تین بار خدا کے حضور جھکتے ہیں: صبح، دوپہر اور شام۔ یہ عین اُس ترتیب کے مطابق ہے جسے موسیٰؑ نے عبادت کی تعلیم کے طور پر دیا تھا۔"

ساگر نے سوچتے ہوئے کہا:

"یعنی اُن کی نماز بھی ایک طرح سے موسیٰؑ کی یاد دہانی ہے؟"

ملیکہ نے اثبات میں سر ہلایا:

"بالکل۔ پھر اُن کے ہاں شبات ہے—ہفتے کا ساتواں دن۔ اُس دن وہ تمام دنیاوی کام چھوڑ دیتے ہیں اور صرف خدا کی حضوری میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔ تورات میں لکھا ہے: ’چھ دن کام کرنا اور ساتویں دن آرام کرنا، یہ خداوند کا حکم ہے۔‘ یہ دراصل اُس دن کی یاد ہے جب خدا نے کائنات کو تخلیق کر کے ساتویں دن آرام فرمایا۔"

ساگر نے گہری سانس لی:

"کتنی خوبصورت بات ہے… یہ گویا وقت کو عبادت میں بدل دینا ہے۔"

ملیکہ نے سلسلہ جاری رکھا:

"پھر اُن کا یومِ کِپور ہے، یعنی کفارے کا دن۔ یہودی اُسے سب سے مقدس دن مانتے ہیں۔ اُس دن وہ روزہ رکھتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور خدا کے حضور توبہ کرتے ہیں۔ یہ وہی دن ہے جب انسان اپنی روح کو پاک کرتا ہے تاکہ خدا کے قریب ہو سکے۔"

ساگر نے کہا:

"اور قربانی؟ وہ بھی تو شریعتِ موسوی کا حصہ تھی۔"

ملیکہ نے سنجیدگی سے جواب دیا:

"ہاں، ہیکل کے زمانے میں قربانی یہودی عبادت کا مرکزی حصہ تھی۔ وہ جانوروں کی قربانی خدا کے حضور پیش کرتے تھے تاکہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں۔ لیکن ہیکل کی تباہی کے بعد قربانی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب وہ اپنی دعاؤں کو قربانی کا بدل سمجھتے ہیں۔ اسی لئے دیوارِ گریہ پر اُن کی دعائیں اتنی شدت سے بہتی ہیں۔"

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"یعنی اُن کے آنسو ہی قربانی ہیں۔"

ملیکہ نے خاموشی سے سر جھکا دیا:

"ہاں ساگر… آنسو قربانی ہیں، دعا قربانی ہے۔ اور یہی انتظار کی سب سے بڑی دلیل بھی ہے۔"

رات گہری ہو رہی تھی۔ ساگر نے اچانک پوچھا:

"ملیکہ، تم نے کہا کہ قربانی ہیکل کے اندر دی جاتی تھی۔ مگر پھر یہ ہیکل اجڑا کیسے؟"

ملیکہ نے ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی، جیسے صدیوں کا غم اُس کی آنکھوں میں اتر آیا ہو۔ پھر آہستگی سے بولی:

"ساگر، یہودی تاریخ کے سب سے بڑے زخم یہی ہیں۔ ہیکل دو بار تباہ ہوا۔ پہلی بار چھٹی صدی قبل مسیح میں—جب بابل کے بادشاہ نبوکدنضر (Nebuchadnezzar) نے یروشلم پر حملہ کیا۔ اُس نے ہیکلِ سلیمانی کو جلا کر خاک کر دیا، اور بنی اسرائیل کو قید کر کے بابل لے گیا۔ وہ دن یہودی قوم کے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔"

ساگر نے سنجیدگی سے کہا:

"تو پھر بعد میں دوبارہ بنایا گیا؟"

ملیکہ نے سر ہلایا:

"ہاں، جلاوطنی کے بعد جب وہ واپس آئے تو ایک دوسرا ہیکل تعمیر کیا گیا، جسے Second Temple کہا جاتا ہے۔ یہودی اُسے بھی مقدس مانتے ہیں۔ لیکن پھر رومیوں نے 70 عیسوی میں یروشلم پر قبضہ کیا اور اُس ہیکل کو بھی مسمار کر دیا۔ اُس وقت ہزاروں یہودی قتل ہوئے، اور اُن کی قوم دنیا بھر میں بکھر گئی۔"

ساگر نے آگ کے شعلے کو گھورتے ہوئے کہا:

"یعنی دونوں بار ہیکل اجڑنے کے بعد اُن کا دل بھی اجڑ گیا۔"

ملیکہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی:

"ہاں ساگر، اسی لئے آج صرف ایک دیوار باقی ہے—دیوارِ گریہ۔ وہ وہاں کھڑے ہو کر روتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور شیلوہ کے انتظار میں دن گنتے ہیں۔ اُنہیں یقین ہے کہ جب نجات دہندہ آئے گا تو ہیکل دوبارہ تعمیر ہوگا اور خدا کی حضوری ایک بار پھر ظاہر ہوگی۔"

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"کتنی عجیب بات ہے ملیکہ… پتھر ٹوٹ گئے، عمارت ڈھ گئی، مگر ایمان اب بھی کھڑا ہے۔"

ملیکہ نے مسکرا کر کہا:

"ہاں ساگر، یہی ایمان انسان کو زندہ رکھتا ہے۔ ہیکل گر سکتا ہے، مگر دل کی عبادت کبھی نہیں گرتی۔"

ساگر نے سنجیدگی سے ملیکہ کی طرف دیکھا:

"ملیکہ، تم نے بتایا کہ ہیکل دو بار تباہ ہوا۔ لیکن آخر یہ ہیکل اتنا اہم کیوں تھا؟ ایک عمارت ہی تو تھی؟"

ملیکہ نے دھیرے سے مسکرا کر جواب دیا:

"ساگر، ہیکل صرف پتھر اور دیواریں نہیں تھا، بلکہ یہ یہودی ایمان کا دل تھا۔ موسیٰؑ کے زمانے میں خدا نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اُس کے لئے ایک مقدس مقام بنائیں، تاکہ اُس کی حضوری اُن کے درمیان ٹھہرے۔ پہلے یہ ’خیمۂ اجتماع‘ تھا، اور بعد میں سلیمانؑ نے اُسے ایک عظیم ہیکل میں بدل دیا۔"

ساگر نے دلچسپی سے پوچھا:

"تو وہاں کیا ہوتا تھا؟"

ملیکہ نے اپنی آواز میں تقدس کے ساتھ کہا:

"ہیکل میں خدا کا گھر سمجھا جاتا تھا۔ اُس کا سب سے مقدس حصہ قدس الاقداس (Holy of Holies) تھا، جہاں عہد کا صندوق رکھا گیا تھا—وہی صندوق جس میں موسیٰؑ کی شریعت کی تختیاں موجود تھیں۔ اُس حصے میں صرف سردار کاہن ہی سال میں ایک بار، یومِ کِپور پر داخل ہو سکتا تھا، تاکہ قوم کے گناہوں کی معافی کے لئے دعا کرے۔"

ساگر کی آنکھیں پھیل گئیں:

"یعنی یہ پورے ایمان کا مرکز تھا۔"

ملیکہ نے سر ہلایا:

"ہاں، بالکل۔ ہیکل بنی اسرائیل کے لئے صرف عبادت گاہ نہیں تھا بلکہ اُن کے خدا کے ساتھ عہد کی علامت تھا۔ قربانیاں وہیں پیش کی جاتیں، دعائیں وہیں کی جاتیں، اور پورا مذہبی نظام اُس کے گرد گھومتا تھا۔ اسی لئے جب وہ اجڑ گیا تو گویا اُن کا ایمان ٹوٹ گیا۔"

ساگر نے سوچتے ہوئے کہا:

"اب سمجھ آیا کہ دیوارِ گریہ اُن کے لئے کتنی مقدس ہے۔ وہ محض پتھر کی دیوار نہیں بلکہ اُس کھوئے ہوئے مرکز کی یاد ہے، جہاں وہ خدا کو قریب سے محسوس کرتے تھے۔"

ملیکہ نے آہستگی سے کہا:

"اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے دلوں میں آج بھی ایک ہی تمنا ہے—کہ ہیکل دوبارہ تعمیر ہو، تاکہ خدا کی حضوری پھر اُن کے بیچ میں اُترے۔ یہی اُن کے انتظار اور اُن کی عبادات کی روح ہے۔"

رات اپنی آخری گھڑیاں گن رہی تھی۔

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"ملیکہ، موسیٰؑ کی شریعت عدل کا پہلا چراغ تھی۔ ہیکل اُس چراغ کا گھر تھا۔ اور دیوارِ گریہ اُس گھر کی ادھوری کہانی ہے۔"

ملیکہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے کہا:

"اور شیلوہ… وہ چراغ کی تکمیل ہے۔ وہ وعدہ جس کے انتظار میں دیوار کے آنسو بہتے ہیں۔ لیکن ساگر، شاید شیلوہ صرف یہودیوں کے لئے نہیں، بلکہ ہر اُس دل کے لئے ہے جو سچائی کی تلاش میں ہے۔"

ساگر نے خاموشی سے اُس کی بات کو سمیٹا:

"ہاں ملیکہ… شاید ہم سب اسی ایک وعدے کے مسافر ہیں۔ کوئی تورات کے صحیفوں میں، کوئی زبور کی دھنوں میں، کوئی اپنی دعاؤں اور آنسوؤں میں۔ لیکن آخرکار سب راستے اُسی نور تک جاتے ہیں۔"

ملیکہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند بادلوں کے پیچھے سے نکل آیا تھا، جیسے اُن کی گفتگو پر مہر لگا رہا ہو۔ اُس نے سرگوشی کی:

"اے خدا، ہمیں اُس وعدے کی سچائی دکھا… جیسے موسیٰؑ نے کہا تھا: ’خدا اپنا کلام ایک اور کے لبوں پر ڈالے گا‘، ہمیں اُس کلام کی طرف لے جا۔ ہمیں وہ دل دے جو تیرے انتظار کو سمجھ سکے۔"

ساگر نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اُٹھا دیے:

"اور اے رب، جیسے ہیکل کی اینٹیں بکھر گئیں لیکن ایمان باقی رہا… ہمارے دل بھی بکھر جائیں تو کوئی بات نہیں، مگر ایمان نہ ٹوٹے۔ ہمیں بھی اُس شیلوہ کے انتظار میں ثابت قدم رکھ۔"

دونوں خاموش ہو گئے۔ آگ بجھ چکی تھی۔ پہاڑوں میں ایک گہری رات چھا گئی۔ لیکن اُن کے دلوں میں موسیٰؑ کی شریعت، ہیکل کی یاد اور شیلوہ کے وعدے کی روشنی زندہ تھی۔

ساگر نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:

"ملیکہ، موسیٰؑ کی شریعت کا ذکر ہوا… مگر مجھے بتاؤ، تورات کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟"

ملیکہ نے نرم آواز میں کہا:

"ساگر، تورات کا پہلا صحیفہ پیدائش ہے۔ اُس میں کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے۔ چھ دن میں خدا نے آسمان، زمین، روشنی، سمندر، پرندے اور جانور بنائے، اور ساتویں دن آرام فرمایا۔ اسی سے شبات کی روایت قائم ہوئی۔"

ساگر نے حیرت سے کہا:

"یعنی یہودیوں کا وہ دن صرف ایک رسم نہیں بلکہ کائنات کی تخلیق کی یاد ہے

ملیکہ نے اثبات میں سر ہلایا:

"ہاں، اور پھر آدم و حوّا کی کہانی آتی ہے۔ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا۔ یہودی اور عیسائی دونوں کے لئے یہ آیت بہت مقدس ہے: ’خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔‘ اس کا مطلب ہے کہ انسان صرف مٹی کا پتلا نہیں بلکہ اُس میں خدا کا عکس جھلکتا ہے۔"

ساگر نے خاموشی سے کہا:

"شاید اسی لئے انسان ہمیشہ اپنی اصل کی طرف کھنچتا ہے… اُس نور کی طرف جس نے اُسے بنایا۔"

ساگر نے ملیکہ سے کہا:

"ملیکہ، تم نے کہا کہ تورات کی ابتدا پیدائش سے ہے… مگر انسان کی عمر کے بارے میں بھی کچھ ذکر ہے نا؟"

ملیکہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ تورات کی آیت سنائی:

"خداوند نے کہا، میرا روح ہمیشہ انسان کے ساتھ نہیں رہے گا، کیونکہ وہ بھی گوشت ہے، لہٰذا اُس کی عمر ایک سو بیس سال ہوگی۔" (پیدائش 6:3)

ساگر نے سوچتے ہوئے کہا:

"یعنی خدا نے انسان کو ابتدا میں طویل زندگی دی، مگر پھر اُس کی مدتِ عمر محدود کر دی۔ شاید یہ بھی ایک پیغام ہے کہ انسان زمین پر ہمیشہ کے لئے نہیں آیا۔"

ملیکہ نے آہستہ آواز میں جواب دیا:

"ہاں ساگر، یہ انسان کے فنا ہونے کا اعلان ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک دعوت بھی ہے—کہ اپنی مختصر زندگی کو ضائع نہ کرو، بلکہ اُس کے نور کی تلاش میں گزارو۔"

ساگر نے گہری سانس لی: اور اچانک سوال کیا

ملیکہ، تورات میں تو لکھا ہے کہ انسان کی عمر 120 سال ہے۔ مگر آج کل تو کوئی بمشکل 60، 70 سال جی پاتا ہے۔ بعض تو 40 ہی میں ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟"

ملیکہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر دھیرے سے کہا:

"ساگر، یہ ایک راز ہے۔ کتابِ پیدائش میں جو 120 سال کا ذکر آیا ہے، وہ ایک حد تھی—کہ انسان کی طبعی زندگی اُس سے زیادہ نہیں ہو گی۔ مگر یہ لازم نہیں کہ سب اتنی عمر پائیں۔"

ساگر نے حیرت سے کہا:

"یعنی عمر گھٹنے کی بھی کوئی وجہ ہے؟"

ہاں، ساگر۔ انسان کی زندگی اُس کے اعمال، اُس کے ماحول، اُس کی خوراک اور اُس کی نیت سے جُڑی ہے۔ جو قومیں اپنی روح کو گناہ میں کھو دیتی ہیں، اُن کی زندگیاں بھی چھوٹی ہو جاتی ہیں۔"

ساگر نے سوچتے ہوئے کہا:

"تو 120 سال دراصل ایک ’امکان‘ ہے، لیکن حقیقت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے؟"

ملیکہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"بالکل۔ جیسے ایک دیا ہے جس میں تیل پورا ڈالا گیا ہو… مگر اگر کوئی تیل ضائع کر دے یا شعلہ بجھا دے تو دیا پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔"

ساگر نے آہستگی سے کہا:

"اب سمجھ آیا… موت عمر کے حساب سے نہیں، بلکہ انسان کی روشنی کے حساب سے قریب آتی ہے۔"

ملیکہ نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا:

"ساگر، یہ راز صرف مذہب میں نہیں، طب اور حکمت میں بھی کھلتا ہے۔"

پھر وہ نرمی سے بولی:

"یونانی اطباء کہتے ہیں کہ خدا نے انسان کے جسم کو اس طرح بنایا ہے کہ اگر اُس کی غذا پاکیزہ، نیند معتدل، فکر روشن اور نیت صاف رہے تو وہ فطری طور پر 120 سال تک صحت مند جی سکتا ہے۔ مگر آج کا انسان اپنی طبیعت کے خلاف چلتا ہے—بے تحاشہ کھاتا ہے، کم سوتا ہے، فطرت سے دور ہوتا ہے۔ اسی لئے اُس کی زندگی چھوٹی ہو جاتی ہے۔"

ساگر نے غور سے کہا:

"یعنی انسان اپنی عمر خود گھٹا لیتا ہے۔"

ملیکہ نے اثبات میں سر ہلایا اور مولا علیؑ کا قول دہرایا:

"بیش از حد کھانا بیماری ہے، اور اعتدال میں شفا ہے۔"

ساگر نے دھیرے سے کہا:

"تو اصل مسئلہ جسم کی موت نہیں، بلکہ عادتوں اور نیتوں کی موت ہے۔"

ملیکہ نے گہری آواز میں کہا:

"ہاں ساگر، موت انسان کو اُس وقت چھوتی ہے جب وہ اپنی روح کی روشنی بجھا دیتا ہے۔ ورنہ تو جسم 120 سال کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔"

ملیکہ نے لمحہ بھر کے توقف کے بعد کہا:

"ساگر، یہ فرق صرف تقدیر کا نہیں، بلکہ انسان کی اپنی روش کا نتیجہ ہے۔ یونانی اطباء نے کہا ہے کہ اگر انسان فطرت کے اصولوں پر چلے تو اُس کا جسم 120 سال تک بخوبی جی سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ ان اصولوں کو توڑ دے تو اُس کی عمر گھٹ جاتی ہے۔"

ساگر نے دلچسپی سے پوچھا:

وہ اصول کیا ہیں؟"

ملیکہ نے ایک ایک کرکے گنوایا:

غذا کا اصول:

"اعتدال ضروری ہے۔ حکیم جالینوس کہتا ہے کہ زیادہ کھانا بدن کو زود رنج اور عمر کو کم کرتا ہے۔ مولا علیؑ نے فرمایا: ’پیٹ کی بیماریوں کی ابتدا زیادہ کھانے سے ہوتی ہے۔‘ اگر کھانے کو دوا بنایا جائے تو زندگی لمبی ہوتی ہے، اگر دوا کو کھانا بنایا جائے تو عمر گھٹتی ہے۔"

نیند کا اصول:

"یونانی طب کہتی ہے کہ نیند روح کا توازن قائم رکھتی ہے۔ جو شخص رات بھر جاگے یا بے وقت سوئے، وہ اپنی عمر کا چراغ آدھا کر دیتا ہے۔"

حرکت و سکون کا اصول:

"بدن کو حرکت اور آرام دونوں چاہیے۔ نہ مسلسل تھکن اچھی ہے، نہ سستی۔ یونانی اطباء کہتے ہیں کہ جسم کو معتدل حرکت ملے تو اعضا تازہ رہتے ہیں۔"

فطرت کے ساتھ تعلق:

"انسان کو ہوا، روشنی اور پانی کی پاکیزگی چاہیے۔ آج کا انسان شور، دھوئیں اور آلودگی میں جیتا ہے۔ وہ اپنے فطری ماحول سے کٹ گیا ہے، اس لئے اُس کی زندگی چھوٹی ہو گئی ہے۔"

نیت اور دل کا سکون:

"حکمت کہتی ہے کہ فکر اور غم سب سے بڑی بیماری ہیں۔ مولا علیؑ نے فرمایا: ’غم دل کو کھا جاتا ہے، جیسے زنگ لوہے کو کھا جاتا ہے۔‘ جو دل سکون میں رہے، اُس کی عمر بڑھتی ہے۔"

ساگر نے خاموشی سے سر ہلایا:

"یعنی عمر کا راز دوا یا تقدیر میں نہیں، بلکہ عادات میں ہے۔"

ملیکہ نے گہری آواز میں کہا:

"ہاں ساگر، 120 سال ایک امکان ہے جو خدا نے دیا۔ مگر انسان اپنی غفلت اور ناپاک عادات سے اُسے 40 یا 60 میں بدل دیتا ہے۔"

ساگر نے آہستگی سے کہا:

"اب سمجھ آیا… اصل موت عادات کی بے اعتدالی سے شروع ہوتی ہے۔"

ملیکہ کی باتوں کے بعد ساگر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ آگ کی ٹمٹماتی روشنی اُس کے چہرے پر عجیب سایے ڈال رہی تھی۔

ساگر نے دل ہی دل میں سوچا:

"میں بھی تو اپنی عمر کو ضائع کر رہا ہوں… کبھی بے وقت جاگنا، کبھی بھوکا رہنا، کبھی غصے اور غم میں ڈوب جانا۔ کیا میں بھی اپنی روشنی کو آدھے راستے ہی میں بجھا دوں گا؟"

اُس نے ملیکہ کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں سکون اور اعتماد کی روشنی تھی۔ ساگر نے دھیرے سے کہا:

"ملیکہ، شاید موت ہماری عمر کے سالوں میں نہیں، بلکہ ہماری عادات میں چھپی ہے۔ اگر میں اپنی عادات بدل لوں، تو کیا میں بھی اپنی روشنی کو دیر تک جلا سکتا ہوں؟"

ملیکہ نے نرمی سے جواب دیا:

"ساگر، یہی راز ہے۔ انسان اپنی تقدیر کا قیدی نہیں، بلکہ اپنی روشنی کا نگہبان ہے۔ اگر وہ اپنی غذا، اپنی نیند، اپنی نیت اور اپنے دل کو پاک رکھے تو اُس کی زندگی اُس چراغ کی طرح ہے جو پورا جل کر روشنی دیتا ہے۔"

ساگر نے آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ کہا:

Credits:

EB 🌷