“دور پہاڑوں کی گود میں چھپی کوئی صدا، ساگر کو بلاتی تھی۔ وہ جانتا نہیں تھا کہ یہ سفر زمین کا نہیں، روح کا ہے۔”
“ہوا کے سنگ چلتا ساگر، ہر قدم کے ساتھ کسی اَن کہی منزل کے قریب ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی راز اس کے دل میں بیدار ہو رہا ہو۔”
ساگر اپنا رستہ چن چکا تھا ۔ وہ شہروں کی اس بھیڑ ، اس شور ، اس غبار سے دور جا رہا تھا ۔
وہ اس دنیا کو پیچھے چھوڑ آیا تھا جس نے ہمیشہ اسے درد دیے ۔ اس کی تذلیل کی ۔ وہ اب اسی منزل کا راہی تھا جہاں اسے اپنی شناخت مل سکے ۔
جہاں اسے کوئی نا جانتا ہو ۔ جہاں پہنچ کر وہ اس حقیقت میں زم ہو جائے ، جسے ہر قلبِ صادق پوجتا ہے ۔ وہ اس ذات کو کہیں جلوہ زن پا لے جو موجود ہے مگر اس کی مظلومیت سے سب غافل ہیں ۔
ہر آسائش سے دور وہ بس اس ذات کا ایک مخلص ہمدرد بننا چاہتا تھا جو ہر بے سہارا اور بے بس کی امید اور یاور ہے ۔
جس بزرگ نے اسے قدیم زبور کا صحیفہ دیا تھا انہوں نے اسے ہدایت کی تھی کہ “ بیٹا اس شہر سے کچھ دور گاڑیوں کا ایک اڈا ہے _ تم وہاں جاؤ اور پہاڑوں کا رخ کرو ۔ تمھارے ہر سوال کا جواب وہاں موجود ہے “
یہ کہہ کر وہ کچھ قدم چلے اور جوں ہی ساگر نے پلٹ کر دیکھا تو وہ غائب تھے ۔
ساگر اب اپنے شہر میں تو تھا نہیں۔۔۔ وہ ششدر تھا کہ یہ اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ جب اس کی حیرت ختم ہوئی تو اس نے ان بزرگ کا کہا ماننا ہی بہتر
سمجھا,کیونکہ اس کا کوئی تھا نہیں فقط ایک دل تھا جس میں کوئی اترنے لگا تھا ۔ اس نے اسے اک اشارہ سمجھا اور اڈے پہ پہنچا اور کچھ دیر بعد گاڑی چلنے لگی ۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی منزل کوہِ ملیکہ ہے ۔
جہاں اس کی عالمِ ملکوت سے بچھڑی محبت اس کی منتظر تھی ۔ مگر ملیکہ اور ساگر قدرت کے اس کھیل میں چھپی رموز سے اب تک بے خبر تھے ۔
ساگر راستے میں سو گیا جب صبح کو گاڑی ناشتے کے لیے رکی تو وہ نیند سے اٹھا ۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ اک کوہ ہے جس سے نور برس رہا ہے ۔ اور اس کوہ کے اوپر بنے مندر میں کوئی اپنی زلفیں ہوا میں لہلہاتے ہوئے وجد میں ہے ۔
مگر اس نے اس رقص کرنے والے کی صورت نہ دیکھی بس اس کے پاؤں میں ایکپائل دیکھی جو اُس میں ایسی نقش ہو گئی کے وہ اسے پھر بھلا نہ پایا ۔
گاڑی جہاں رکی تو وہ بھی اٹھا باہر آیا کہ کچھ کھا لے ۔ اس نے دیکھا تو وہ ایک حسین اور سرسبز وادی میں تھا ۔ جس کے پہاڑوں کی چوٹیاں بادلوں میں تھی اور برف سے ڈھکی ہوئی تھیں ۔ اس کے چہرے پہ آج ناجانے
کتنے وقت بعد مسکراہٹ آئی ۔ وہ اس وادی کے سحر میں کھو گیا ۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اک گہرا سانس لیا ۔
اس وادی کی ہوا جب اس کی سانس بن کر اس میں گئی تو اس کی روح کو وہ تسکین ملی جو اسے شہر کے شور اور منافقت بھرے سنسار میں کبھی میسر نہ ہو سکی ۔
اسے یوں لگا جیسے اس کا اس سرزمین سے کوئی پرانا تعلق ہے ۔ اسے ایسا لگا کہ اس نے یہ سب پہلے ہوتے دیکھا ہے وہ خوش تھا مگر حیرت میں غرق تھا ۔
وہ اب ناشتہ کرنے کے لئے ایک چھوٹے سے ڈھابے پہ بیٹھا اور خوشی سے مسکراتے ہوئے اس نے ناشتے کا آرڈر دیا _____ اس کی جیب اس ناشتے کے بعد خالی ہونے والی تھی ______ مگر وہ یقین سے خالی نہ تھا اب ______ پہاڑوں میں آنے کے
بعد اس کا اپنے خدا (مولا ) سے کھویا ہوا یقین واپس آیا کیونکہ وہ بے بس تھا ۔ اس نے اب خود کو وقت ، خدا اور اس وادی کے سپرد کر دیا تھا _____ جس
نےاسے یہاں تک راہ دکھائی وہ آگے بھی اس کے ساتھ ہی رہے گا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد اس نے کہا “ ہر ہر مہادیو” شکر ادا کیا اور اٹھا کے گاڑی میں بیٹھے اور آگے سفر کرے مگر وہ جوں ہی گاڑی کے پاس پہنچا ___ اس کے قدم منجمد ہو گئے ___ اس کے اندر سے اک صدا آئی کہ “اسے ڈھونڈو ۔ وہ پہاڑوں میں تمہاری منتظر ہے “
وہ سکتے میں تھا ___ مگر اس نے اپنے اندر سے آئی اس آواز کو اک اشارہ سمجھا اور گاڑی سے اپنا سامان نکالا اور وہیں رک گیا ، وہ گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔
فکر میں بھی تھا اور مطمئن بھی مگر اس میں وہی صدا بار بار گونج رہی تھی “ اسے ڈھونڈو “
اس نے اس قصبے کے لوگوں سے پہاڑوں کے وسط میں جانے کا راستہ پوچھا اور چلتا گیا اپنا سامان اٹھائے ۔
پہاڑوں سے گرتی آبشاریں _____ میٹھے پانی کے چشمے ، اس وادی کی زمین جیسے فرشِ زمرد ۔وہ حیران بھی تھا اور پریشان بھی کیونکہ اسے دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ۔
وہ زندگی سے بیزار چلتا رہا اسے یہ تک خبر نہ تھی کے وہ کہاں جا رہا ہے ______ مگر جس پر اسے یقین تھا وہ اب اسے کسی سے ملوانے والا تھا
ساگر تھک کے چور ہو چکا تھا اور اس کو قدم اٹھانا بوجھ لگ رہا تھا ۔ آفتاب چھپنے لگا تھا ___ اندھیرا وادی پر چھا رہا تھا _
وہ کچھ دیر آرام کرنے اک ندی کے پاس رکا اور لیٹ گیا ۔ کمزوری کی وجہ سے وہ جہاں لیٹا وہیں سو گیا . طلوعِ آفتاب یا اک نئی زندگی کی کرن اس پر پڑی تو اس کی نیند ٹوٹی _____ زندگی کتنی غیر متوقع ہے ۔
اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی زندگی آج ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہے ۔
اس کی آنکھیں کھلی تو کسی کی آنکھیں اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ یہ ملیکہ تھی جو اس اس کے دائیں جانب اسے اپنے زلفوں کے سائے میں لئے ہوئی تھی ۔۔۔۔
ساگر نے آنکھ کھولی تو اس کی نظر اس چہرے پر پڑی جسے وہ بچپن سے خوابوں میں دیکھتا رہا ۔ اس کے اٹھنے پر ملیکہ پیچی ہٹی اور اک پانی کا پیالہ اس کی طرف بڑھایا _____ ساگر کو سہارا دیا اور آغوش میں لے کر اسے پانی پلایا _____ دونوں سکوت میں تھے جیسے لفظ ختم ہو گئے ہوں
______ ساگر کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت _____ اس بیابان میں ایک لڑکی اس کی بالیں پہ _____ ایک لڑکی جس کا حسن اس میں بستا جا رہا تھا ____ وہ اسے کوئی دیوی سمجھ رہا تھا
_____ اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے پانی پی رہا تھا ____ اب تک خاموش تھے دونوں اور ملیکہ کے حسن نے ساگر کو مدہوش کر دیا تھا ____
اور ملیکہ اس کی گہری آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے اس کا کوئی کھویا ہوا اثاثہ مل گیا ______
دونوں اس لمحے میں گم تھے ، ساگر کا تو وجود تک ہل نہیں سک رہا تھا ، اسے یہ تک بھول چکا تھا کہ کہ وہ سانس لے رہا ہے یا نہیں _____ ملیکہ نے آخر خاموشی توڑی اور اس کی طرف سیب بڑھاتے ہوئے کہا “ آپ ٹھیک ہیں نہ ؟
یہ کھا لیں آپ کو توانائی ملے گی ۔ اس بیابان میں آپ کہاں؟ “ ساگر کچھ کہ نہیں پا رہا تھا ۔ اس نے سیب لیا اور ملیکہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اسے کھایا ۔
ملیکہ اٹھی ، اس نے اپنا تیر دھنش اٹھایا اور کہنے لگی “ میں آپ کو یہاں اس حال میں چھوڑ کر نہیں جا سکتی ____
اگر بہتر محسوس کر رہے ہیں تو میرے ساتھ چلیں” ملیکہ نے اسے سہارا دیا اٹھایا اور کوہِ ملیکہ کی طرف دونوں بڑھنے لگے ساگر اب تک خاموش تھا اور ملیکہ کو حیرت اور محبت سے دیکھ رہا تھا
ملیکہ آگے چل رہی تھی، اس کا لباس ہوا میں ہلکا سا لہرا رہا تھا۔
قدموں کی چاپ پتھروں پر گونج رہی تھی اور ساتھ میں کہیں دور سے جھرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ساگر کچھ فاصلے پر پیچھے چل رہا تھا، نظریں کبھی راستے پر، کبھی اس پراسرار لڑکی پر۔
راستہ تنگ اور پیچیدہ تھا، دونوں طرف جنگلی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کبھی ہوا کا جھونکا آتا تو ساگر کو ایسا لگتا جیسے خوشبو کے ساتھ ملیکہ کی موجودگی اور بھی قریب آ گئی ہو۔
وہ دونوں خاموش تھے، مگر خاموشی میں ایک عجیب سا مکالمہ جاری تھا—جیسے وہ دونوں کسی ایسی زبان میں بات کر رہے ہوں جو لفظوں کی محتاج نہیں۔
چند گھنٹوں کے بعد راستہ ایک کھلے میدان میں ختم ہوا۔ پہاڑ کا دامن سامنے تھا—اونچا، پراسرار، اور چاندنی میں چمکتا ہوا۔
زمین پر صدیوں پرانے پتھر بکھرے تھے جن پر عجیب و غریب نشان کندہ تھے۔ کچھ نشان سورج کی صورت میں، کچھ ستاروں کی قطار کی مانند۔
ملیکہ رکی۔ اس نے پیچھے مڑ کر ساگر کی طرف دیکھا—آنکھوں میں ایک سوال اور ایک خاموش دعوت۔
"یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اصل سفر شروع ہوتا ہے۔" اس نے آہستہ کہا۔
ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھا اور کہا:
"تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو… آؤ، تمہیں ایک جگہ دکھاتی ہوں۔"
ساگر نے صرف سر ہلایا۔ وہ اب تک سفر کے بوجھ اور پہاڑ کی پراسرار فضا میں ڈوبا ہوا تھا۔
وہ دونوں ایک پتھریلے رستے پر آگے بڑھے۔ چند منٹ بعد پہاڑ کی ایک بڑی چٹان کے پیچھے ایک حیران کن عمارت ابھری—باہر سے وہ صدیوں پرانا محل لگتا تھا۔ پتھروں کی دیواریں، بلند محرابیں، اور لکڑی کے کندہ دروازے۔ دیواروں پر بیلیں
چڑھی ہوئی تھیں اور کھڑکیوں میں مدھم پیلی روشنی جھلملاتی تھی، جیسے اندر وقت تھم گیا ہو۔
ساگر نے ایک لمحہ رک کر اسے دیکھا۔ "یہ جگہ… کتنی عجیب ہے۔"
ملیکہ نے دروازہ دھکیلا۔ اندر قدم رکھتے ہی ساگر چونک گیا—اندر کا منظر بالکل مختلف تھا۔ چمکدار لکڑی کا فرش، نرم روشنی والے فانوس، دیواروں پر جدید پینٹنگز اور کھڑکیوں کے پاس آرام دہ صوفے۔ کونے میں ایک شیشے کی میز پر چائے اور خشک میوہ جات رکھے تھے۔
ایک طرف شفاف پانی کا فوارہ بہہ رہا تھا، جو ہوا میں ٹھنڈک اور سکون پھیلا رہا تھا۔
ساگر نے اردگرد دیکھا، دل میں تجسس کی ایک لہر اٹھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ ایک عام راستے پر نہیں ہے۔ یہ پہاڑ جیسے اپنی سانسوں میں کوئی راز چھپائے بیٹھا تھا، اور ملیکہ… شاید اس راز کی چابی۔
۔ساگر بالآخر اس مقام پر پہنچ گیا جہاں ملیکہ نے اپنے روحانی وجود کو صدیوں سے آباد رکھا ہوا تھا۔
پہاڑوں کے درمیان چھپا یہ مقام، باہر سے کسی قدیم مندر کی طرح دکھائی دیتا تھا، مگر اندر کی خوبصورتی نے ساگر کو بے حد حیران کر دیا۔ ہر گوشہ روشنی اور سکون سے بھرا ہوا تھا، اور ہر چیز میں ایک عجیب الٰہی ہم آہنگی محسوس ہو رہی تھی۔
ساگر، جو کئی دنوں کے سفر کے بعد تھکن اور ناساز طبیعت سے لڑ رہا تھا، ابھی اپنے وجود کا مکمل شعور حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ صرف دیکھتا رہا، ہر منظر کو اپنی روح میں اتارتا رہا
ملیکہ نے اُسکی حالت کو محسوس کرتے ہوئے کچھ پھل میوہ جات گرم دودھ کے ساتھ اُسے پیش کیے جسے کھانے کے بعد ساگر نے کچھ بہتر محسوس کیا اور ملیکہ نے اُسے کچھ دیر آرام کرنے کو کہا کہ
اچانک ملیکہ کی نظر ساگر کے پاس موجود سامان پر پڑی، جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ اس میں سے ایک چیز نے اس کی توجہ سب سے زیادہ کھینچی—وہ زبور کا نسخہ تھا، جو آج کل کوهِ ملیکہ کا موضوع تھا
اس لمحے ایک خاموش حیرت اس کے دل میں جاگ اُٹھی۔ ساگر کی تھکن اور ناساز طبیعت کے باوجود، یہ نسخہ جیسے ایک روشنی کی کرن کی طرح سامنے آ گیا۔ ملیکہ نے نرمی سے ساگر کی طرف دیکھا، اور دل میں ایک احساس ہوا کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ تقدیر کا ایک حصہ ہے۔
۔
اب ساگر کچھ دنوں کے لیے اسی مقام پر رہنے والا تھا تاکہ اپنی تھکن اور ناساز طبیعت سے مکمل صحتیابی حاصل کر سکے۔ ان دنوں میں وہ مکمل طور پر ملیکہ کا مشاہدہ کر رہا تھا—اس کی ہر حرکت، ہر خاموشی، اور سب سے چھوٹی تفصیلات بھی اس کی نظر سے اوجھل نہ رہیں۔
ساگر نے دیکھا کہ ملیکہ کھانے میں بس پھل اور میوہ جات لیتی ہے، ہمیشہ فطرت کے قریب رہتی ہے، جیسے زمین اور آسمان کی خاموش توانائیوں سے رابطے میں ہو۔ وہ اکثر کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر کچھ تلاش کر رہی ہوتی، کچھ مسائل سلجھا رہی ہوتی، یا زبور کے کلام میں خود سے سوالات کر رہی ہوتی—جیسے ہر لمحہ وہ کسی راز کی تلاش میں ہو۔
ملیکہ کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں ساگر کی نظر سے اوجھل نہ رہیں: جب وہ زبور کے نسخے کی طرف ہاتھ بڑھاتی، اسے احتیاط سے کھولتی، ہر لفظ کو آہستہ سے پڑھتی، اور کبھی قلم سے کوئی نکتہ لکھ کر اپنے دل کی گہرائی میں جذب کر لیتی۔ ہر بار جب وہ نسخہ کھولتی، ساگر محسوس کرتا کہ وہ نہ صرف پڑھ رہی ہے بلکہ روحانی طور پر خود کو اور مقام کو زندہ کر رہی ہے۔
چند دن ساگر کے لیے ایک طرح سے روحانی مشاہدے اور سکون کی مدت بن گئے۔ وہ تھکن کے باوجود ہر لمحے کو پوری توجہ سے محسوس کر رہا تھا—ملیکہ کی ہر مسکراہٹ، ہر سرگوشی، ہر نظر اسے زیادہ قریب لا رہی تھی۔
ساگر کے دل میں یہ خیال جاگ رہا تھا کہ شاید یہی وہ مقام اور یہی وہ لمحے ہیں جن کا اس نے برسوں سے انتظار کیا تھا—ایک جگہ جہاں انسان، روح، اور خدا کی موجودگی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہیں۔
- کوهِ ملیکہ کے پہاڑوں میں ایک نئی ملاقات کی خاموش گونج ہے… ساگر اور ملیکہ کے دلوں کی سرگوشیاں۔”
یہ آغاز ہے ایک لمبے روحانی سفر کا۔”
“ساگر نے ملیکہ کو دیکھا، نہ صرف آنکھوں سے بلکہ روح سے بھی۔”
یہ صرف آغاز تھا… ساگر اور ملیکہ کی کہانی ابھی باقی ہے۔
ساگر پہنچ تو چکا تھا اپنے خواب کی تعبیر ڈھونڈھتے اور وہ پکارا سنتے مگر اب آگے کیا ....... کیا یہی تھی اُسکی منزل.....?
ہر نظر، ہر سرگوشی، اگلے سفر کے دروازے کھول رہی ہے۔”
رات کا سکوت گہرا اور پراسرار تھا۔ ساغر کی آنکھیں اچانک کھلیں، دل میں عجیب سی تھرتھراہٹ، جیسے پہاڑوں کی خاموشی بھی اس کی روح کی آواز سن رہی ہو۔ وہ ہوا کے سرسراہٹ کے ساتھ چلتا ہوا ایک روشنی کی طرف بڑھا، جس نے اسے اندر سے کھینچا۔
جب وہ وہاں پہنچا، تو وہ منظر دیکھ کر اُس کی سانس رک گئی۔ ملیکہ اپنی خاص مقدس جگہ میں موجود تھی—چھوٹا سا محل، مگر ہر کونا روحانیت سے جگمگا رہا تھا۔ دیواروں پر قدیم الہیٰ علامات، ہر جگہ چھوٹے چراغ، اور ہوا میں پرماتما کی سرگوشیاں بھری ہوئی تھیں۔
ملیکہ کا رقص شروع ہوا، مگر یہ محض رقص نہیں تھا۔ یہ روحوں کا جشن، دلوں کی سرگوشی، کائنات کی لے تھی۔
اس کے ہر ہاتھ کی حرکت میں زبور کے نغمات کی روانی محسوس ہوتی تھی، جیسے ہر سرگوشی کی دھن ہوا میں رقص کر رہی ہو۔
پاؤں کی چھوٹی حرکتیں زمین پر روشنی کی لہریں پیدا کر رہی تھیں، ہر قدم سے ایک مقدس دائرہ وجود میں آ رہا تھا۔
اس کے جسم کی حرکات کرشن کی خوشی اور سکون کی لہر کی مانند تھیں، جو دلوں کو نرم کر رہی تھیں۔
گرد و نواح میں بودھا کی خاموش حکمت اور روحانی سکون جھلک رہا تھا، جیسے ہر لمحہ ایک نیا شعور جنم لے رہا ہو۔
ہر لمحہ، اس کے ہر گھماؤ میں حضرت عیسیٰ کی شفقت، حضرت موسیٰ کی حکمت، اور انبیاء کی رحمت محسوس ہو رہی تھی۔
اس کی آنکھوں کی چمک اور ہر حرکت میں الہیٰ روشنی جھلک رہی تھی، جیسے کائنات کے تمام مقدس وجود اس رقص میں جمع ہو گئے ہوں۔
ہواؤں نے سرگوشی کی
ادب کیا جائے یہ عشق کا سماں ہے
ساغر نے محسوس کیا کہ وہ اپنی حقیقت اور کائنات کے بیچ ایک پل پر کھڑا ہے۔ ہر قدم، ہر گھماؤ، ہر ہاتھ کی حرکت میں محبت، حکمت، اور سکون کی پوری کائنات موجود تھی۔
اس لمحے، ملیکہ کا رقص صرف ایک رقص نہیں رہا، بلکہ الہیٰ، مقدس، اور ہر مذہب کی روشنی کا ایک کامل امتزاج بن گیا۔ صاغر اپنی سانس اور وقت تک بھول گیا، وہ صرف اس روشنی، اس حرکت، اور اس روحانیت میں گم ہو گیا۔
ساغر کی روح نے پہلی بار یہ سمجھا:
"یہ محض کسی کا رقص نہیں، یہ کائنات کی ساری محبت اور ہدایت کا ایک الہیٰ اظہار ہے۔"
اچانک، اُس کے دماغ میں ایک پرانی یاد، ایک خواب چمک اُٹھا—وہ خواب جو راتوں میں اُس کے دل کو بار بار چھوتا تھا۔
ساغر نے آنکھیں بند کیں، اور وہ منظر واضح ہوا:
خواب میں وہ بھی کسی قدیم مقدس محل میں کھڑا تھا، روشنی سے بھرے ہوئے کمرے میں، اور وہاں ایک روحانی رقص ہو رہا تھا۔
ہر حرکت میں، ہر قدم میں ایک الہیٰ روشنی، ہر مذہب کی روحانیت، اور کائنات کی سرگوشی جھلک رہی تھی۔
خواب میں، وہ رقص دیکھ رہا تھا مگر اس کی روح نے ابھی تک اس حقیقت کا مکمل شعور نہیں پایا تھا۔
اب وہی منظر حقیقت میں اس کے سامنے تھا۔
ساغر کا دل دھڑک رہا تھا، اور اُس کے لبوں سے صرف ایک سرگوشی نکلی:
"یہ… یہی خواب تھا!"
ملیکہ کا رقص، اُس کی حرکتیں، ہر روشنی، ہر آہنگ—سب کچھ اُس خواب کی تصویر جیسا تھا۔ لیکن یہاں حقیقت کی شدت اور الہیٰ کشش نے اس خواب کو بھی کئی گنا بڑھا دیا تھا۔
ساغر نے محسوس کیا کہ یہ صرف ایک اتفاق نہیں، بلکہ کائنات کی مقدس رہنمائی ہے۔
وہ خواب اور حقیقت کے درمیان کھڑا تھا، اور اُس کے دل نے پہلی بار سمجھا:
"یہ خواب مجھے یہاں لے آیا، اور یہ رقص مجھے وہ تمام الہیٰ راز دکھا رہا ہے جو میں اپنی روح میں ہمیشہ سے تلاش کر رہا تھا۔"
ہر لمحہ ملیکہ کا رقص اُس خواب کی نغمگی، الہیٰ روشنی، اور ہر مذہب کی مقدس جھلک سے جڑ رہا تھا۔ ساغر کی روح نے خود کو مکمل محسوس کیا—ایک ایسا لمحہ جو وقت، جگہ، اور حقیقت سے بالاتر تھا۔
ہر جنبش، ہر حرکت الہیٰ دھن کی مانند تھی۔ چراغوں کی روشنی میں اُس کا وجود روشنی اور سایوں کے بیچ جھوم رہا تھا۔ صاغر کے لیے یہ لمحہ کسی خواب سے کم نہ تھا—وہ لمحہ جس نے اُس کے دل کی دھڑکنیں قید کر لی تھیں۔
مگر اچانک، ملیکہ کے دل نے ایک عجیب سی گرمی اور تپش محسوس کی۔ جیسے کوئی نظر اُس کے اندر تک اُتر آئی ہو۔ اُس کے قدم تھم گئے۔ ہاتھ کی حرکت آہستہ آہستہ رک گئی۔
وہ رُکی—اور آہستگی سے اُس نظر کی سمت دیکھا۔
ساغر سامنے کھڑا تھا، روشنی کے حصار میں گم، اور اُس کی آنکھوں میں صرف حیرت تھی۔ حیرت… جو خاموش بھی تھی اور چیخ بھی رہی تھی۔
ملیکہ کی آنکھیں صاغر کی نگاہوں سے ملیں۔ لمحہ رک گیا۔
ساغر کی آنکھوں میں وہ کیفیت تھی جو الفاظ بیان نہیں کر سکتے تھے—
جیسے وہ پوچھ رہی ہوں:
"کیا یہ حقیقت ہے یا وہی خواب جس میں میں ہمیشہ بھٹکتا رہا ہوں؟"
ملیکہ نے اُس کی نظر کی شدت کو محسوس کیا، اور ایک لمحے کے لیے خود بھی خاموش حیرت میں ڈوب گئی۔ اُس کی آنکھوں میں روشنی تھی، مگر اس روشنی کے اندر ایک سوال، ایک کھوج، اور ایک انجانی کشش چھپی ہوئی تھی۔
کمرے میں چراغ جلتے رہے، خاموشی سانس لیتی رہی، اور دونوں کے بیچ صرف آنکھوں کی گفتگو باقی رہ گئی۔
ہواؤں نے تقدیر سے پوچھا کیا یہ آغازِ محبت ہے
جواب وقت کی طرف سے آیا محبت سے اوپر کی بات ہے
یہ عقیدت ہے
"اب وقت قریب ہے۔
لیکن سوال باقی ہے۔
کیا ساغر کو ملیکہ کی دنیا کی ایک جھلک ملے گی—
ایک ایسی دنیا جہاں ہر مذہب کی صدائیں گونجتی ہیں،
اور جہاں ایک ایسا راز چھپا ہے جو سب راستوں کو ایک مقام پر لے آتا ہے۔
Credits:
EB🌷