Ssshh…!
خاموشی سے آؤ…"
پہاڑوں کی ہواؤں کے درمیان ایک نرم سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے، اور چاندنی دھیرے دھیرے زمین پر بکھری ہوئی ہے۔
پردے کے پیچھے سے کوئی سرگوشی کر رہا ہے، جیسے خود قدرت کہہ رہی ہو: “آہستہ قدم بڑھاؤ، اور دیکھو۔”
ساگر کھڑا ہے، اپنی نظریں ملیکہ پر جمائے ہوئے۔
وہ دیکھ رہا ہے کہ وہ کس طرح اپنے رقص میں کھو گئی ہے، ہر حرکت میں مکمل خلوص، ہر گردش میں روح کی گہرائی۔
وہ صرف جسمانی حرکات نہیں کر رہی ہے، بلکہ دل اور روح کی زبان بول رہی ہے۔ ساگر محسوس کر رہا ہے کہ وہ خود سے باہر، خدا کے قریب ہے —
ایک ایسی حالت میں جہاں الفاظ بے معنی ہیں، اور ہر لمحہ صرف روشنی کی بات کر رہا ہے۔
ملیکہ کے ہاتھ آہستہ آہستہ ہوا میں تیر رہے ہیں، اور ہر قدم کے ساتھ زمین اور آسمان کے درمیان ایک نرم تعلق بن رہا ہے۔
وہ اپنی سانسیں روک کر دیکھ رہا ہے کہ وہ کس طرح خود کو خدا کے سپرد کر کے ہر حرکت میں نغمہ بن گئی ہے۔
اس لمحے ساگر کو احساس ہوتا ہے: یہ رقص صرف حرکات کا مجموعہ نہیں، بلکہ روح کا مکالمہ ہے، اور وہ خود بھی اس مکالمے کا حصہ بن رہا ہے، بغیر کسی لفظ کے، صرف دل اور روح کی زبان میں۔
خاموشی میں، دونوں کے درمیان ایک نرمی اور سکون کی لہر دوڑ رہی ہے۔
ساگر کے دل نے اپنے اندر کے اسرار محسوس کیے، اور ملیکہ کے رقص نے اسےایک ایسی دنیا میں لے پہنچا دیا جہاں وقت اور جگہ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
ساگر کی آنکھیں اب بھی ملیکہ کے رقص میں گم ہیں۔
وہ محسوس کر رہا ہے کہ یہ لمحہ صرف ایک نظارہ نہیں بلکہ کسی کتاب کا کھلا ہوا باب ہے۔
ہر گردش ایک آیت ہے، ہر حرکت ایک دعا، ہر سانس ایک راز کی سرگوشی۔
اچانک اُس کے دل میں خیال جگمگاتا ہے:
"یہ رقص صرف ملیکہ کا نہیں، بلکہ یہ تو زبور کی دھن ہے… وہی زبور جو نبی داؤد نے گائی تھی، اور آج یہ حرکتوں میں زندہ ہے۔"
اُس کے قدم بے اختیار بڑھے ۔
جیسے اب ہے تو وہ دھن تشکیل دینے شروع کی ہو جو ملیکہ کے وجود سے پھوٹتی روشنی سے مل کے رقص کناں ہونے کو ہے
اس نے اُسے کتنی ہی بار یوں خواب میں بند آنکھوں سے دیکھا تھا
اب ہی تو اس نے ملیکہ کو روک کہ ساکت کر کے اُسی سامنے بیٹھا کر دیکھتے رہنے کا کنول آسن جمانا چاہا ......../
ہوائیں پہاڑوں سے ہمکلام ہوئیں
اب وہ پلٹ نہیں سکتا… وہ عشق کی وادی میں داخل ہو چکا ہے۔"
اب وہ نہ کوئی لفظ بول رہا ہے، نہ کوئی سوال کر رہا ہے — بس دیکھ رہا ہے۔
اور عشق اُس پر یہ جائز نہیں کہ غفلت برتی جائے
ملیکہ کی آنکھوں کی روشنی، اُس کے چہرے کی خاموش مسکان، اُس کی سانسوں کی مدھم لے… سب کچھ ایک ذکر کی طرح ہے۔
یہ لمحہ عبادت سے کم نہیں۔ جیسے وہ مقدس کتاب کے صفحات پڑھنے کے بجائے، خود کتاب کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہو.......
یہ صرف ملاقات نہیں، یہ دل اور روح کے درمیان پہلی گواہی ہے۔
محبت
پھر سے ایک عورت سے
وہی تو وجودِ محبت ہے
ایک سے پیدائشی ہوتی ہے جسکی فطرت میں ہی تخلیق ہے
ناری جو سریجن (خلق) کرتی ہے
اور دوسری سے معجزاتی ........
محبت جس پہ صرف ایمان لایا جاتا ہے
جسکی پرستش کرنے پہ دل مائل رہتا ہے
اُسکی روح اُسی پہچانتی تھی,...... وو مقدم تھی , مقدس بھی اور دور کہیں شاید ملکیت بھی
اُسے الہام ہوا وہ ہے, وہ تھی اور رہے گی..... دل کی اونچی مسند پہ براجمان بھی
آنکھوں کے شفاف پردے پہ چھآئی ہوئے سے بھی اور سماعتوں پہ قابض بھی
وہ اس سے شناسا نہیں تھا میں مگر اُسے لگا وہ اُس سے مانوس ہے
کسی اور جہاں میں, کسی اور وقت ک چکر میں
رات کا رقص ختم ہو چکا ہے۔ ملاکہ کے قدم تھم گئے ہیں اور کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی ہے۔
ساگر اب پردے کے پیچھے نہیں رکتا۔ وہ ہمت جمع کرتا ہے اور آہستہ قدموں سے اندر آ جاتا ہے۔
ملیکہ چونک کر پیچھے مڑتی ہے، لیکن اُس کی آنکھوں میں خوف نہیں — ایک عجب سکون اور روشنی ہے۔
ساگر چند لمحے خاموش کھڑا رہتا ہے، جیسے لفظ ڈھونڈ رہا ہو، پھر آہستہ سا کہتا ہے:
"تمہارا رقص… دعا کی طرح تھا۔"
ملیکہ کی لبوں پر ہلکی سی مسکان آ جاتی ہے۔
"رقص دعا ہی ہے، ساگر۔ جس طرح لفظ زبان سے نکلتے ہیں، ویسے ہی حرکات روح سے نکلتی ہیں۔"
ساگر نظریں جھکاتا ہے، پھر دوبارہ اُس کی طرف دیکھتا ہے۔
"میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا… جیسے ہر حرکت مجھے کسی اور جہان میں لے جا رہی تھی۔"
ملیکہ چند لمحے خاموش رہ کر آہستہ سا کہتی ہے:
وہ محبتوں کا جہان ہے جہاں کوئی تفریق نہیں
ساگر کی آنکھیں بھیگ سی جاتی ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ واقعی — یہ صرف ملاقات نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا میں داخلہ ہے۔
🌿 گفتگو کا آغاز
ساگر اُس کے سامنے کنول آسن جما کر بیٹھ جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان چند لمحے کی خاموشی ہے، پھر وہ مکالمہ شروع ہوتا ہے:
ساگر: "اگر رقص دعا ہے، تو مقدس کتابیں کیا ہے؟"
ملیکہ: "کتاب روشنی کا راستہ ہے۔ رقص دل کو جگاتا ہے، اور کتاب عقل کو۔ دونوں مل کر انسان کو حقیقت تک پہنچاتے ہیں۔"
ساگر: "کیا تم مجھے وہ راستہ دکھاؤ گی؟"
ملیکہ (نظر ملاتے ہوئے): "راستہ دکھانے کے لیے نہیں ہوتا، ساگر۔ صرف ساتھ چلنے کے لیے ہوتا ہے۔"
ساگر کے دل میں ایک لرزش دوڑتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ سفر تنہا نہیں رہے گا — اب اُس کے ساتھ ایک ہمسفر ہے، جس کی زبان رقص ہے اور جس کا دل کتاب۔
ساگر نے چند لمحے کتابوں کے ڈھیر کو دیکھا۔ وہاں زبور کے اوراق بھی ہیں، تورات کے صفحات بھی، گیتا اور وید کے اشلوک بھی، اور انجیل کے ورق بھی۔
ساگر کی نظر اچانک کمرے میں بکھرے منظر پر ٹھہر گئی۔
دیوار پر صلیب ✝️ لٹک رہی ہے، ایک اور کونے میں اوَم ॐ کا سنہری نشان جگمگا رہا ہے۔ کتابوں کے درمیان ستارہ ✡️ چمک رہا ہے، اور کھڑکی کے قریب ہلال ☪️ کا نشان روشنی میں جھلک رہا ہے۔
یوں لگتا تھا جیسے پورا کمرہ ایک مقدس مزار ہے، جہاں سب مذاہب اپنی اپنی زبان میں دعا کر رہے ہوں۔
ساگر کی نظریں ابھی بھی کمرے کی علامتوں پر پھر رہی ہیں — ✝️ صلیب، ✡️ ستارہ، ☪️ ہلال، ॐ اوَم… اور اُن کے درمیان پھیلی مقدس کتابیں۔
وہ الجھن میں ہے، مگر اُس الجھن کے اندر ایک کھنچاؤ ہے، جیسے یہ سب اُسے اپنی طرف بلا رہے ہوں۔
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اُس نے ملیکہ کو دیکھا اور آہستہ سا کہا:
یہ سب مذاہب کی روشنیاں تمام مقدس کلمات تمام خدائی صوریں تو تم یہاں سمیٹے ہوئی ہو خود میں تو پھر یہ تلاش کس کی
تم یہاں اِن پہاڑوں میں کیسے آ گئیں؟
یہ سب نشان، یہ سب مقدسات… آخر یہ کون ہے جس کی تلاش تمہیں یہاں تک لے آئی؟
کون سی طاقت نے تمہیں اتنی دور تنہائی میں بُلا لیا؟"
چند لمحے کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ باہر ہوا کے جھونکے پتوں سے راز بانٹ رہے تھے۔ ملیکہ نے اپنی نظریں جھکائیں، جیسے دل کے اندر سے جواب ڈھونڈ رہی ہو۔ پھر آہستہ سے بولی:
جس نے خاموشی کو آواز دی، اُس نے ہی مجھے بلایا ہے۔
جس نے ہوا کو ساز اور دل کو مَضراب بنایا، اُس نے میری رہنمائی کی ہے۔
پہاڑ مجھے اسی نے دیے ہیں جو زمین کی پسلیوں میں راز رکھتا ہے۔ یہاں ہر پتھر مِحراب ہے اور ہر گونج، ذکر۔ راتوں میں خواب آتے ہیں، دن میں دل پر آیات اترتی ہیں—میں اُنہیں لکھتی نہیں، سنتی ہوں۔
یہی تلاش ہے: اُس سرچشمے تک پہنچنا جس سے سب راستے جنم لیتے ہیں۔"
ساگر کی آنکھیں نم ہوتی ہیں ۔ وہ پھر پوچھتا ہے،
"اور یہ رقص؟"
ملیکہ (نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا):
"میں رقص نہیں کرتی—رقص مجھ پر ہو جاتا ہے۔
جب دل اپنی چاہ چھوڑ کر ایک ہی چاہ میں ٹھہرتا ہے، تو بدن خود دعا بن جاتا ہے۔
میرا ہاتھ جب اٹھتا ہے تو وہ نام بنتا ہے؛ جب جھکتا ہے تو وہ سجدہ۔
صلیب میں صبر کی لکیر، ہلال میں نیاز کی کُرَوَت، ستارے میں وعدے کی چمک، اوَم میں وحدت کی گونج—یہ سب دروازے ہیں، دیواریں نہیں۔ میں دروازوں سے اندر کی روشنی دیکھتی ہوں
خوبصورتی میری نہیں؛ اُس کی عکاس ہے۔
آہنگ میری نہیں؛ اُس کی سانس ہے جو میرے اندر چلتی ہے۔
میں اُسی کی تلاش میں ہوں۔ وہ جو سب کا راز ہے، سب کی ابتدا ہے… اور سب کا انجام بھی۔"
ساگر، میرا دل ہمیشہ سے سوال کرتا آیا ہے کہ اگر خدا ایک ہے، تو راستے اتنے مختلف کیوں ہیں؟ یہ سب نشان، یہ سب کتابیں… سب مجھے اُس ایک کی طرف لے جاتی ہیں، مگر میں اُس سرچشمے تک پہنچنا چاہتی ہوں جہاں یہ سب راستے جا کر ملتے ہیں۔"
اور پھر اُس نے بھی تو وعدہ کیا آنے کا ........
ساگر۔ میرا دل یہ کہتا ہے کہ اصل حقیقت لفظوں اور نشانوں کے پیچھے ہے
تو پھر، اگر یہ سب اُس کی طرف جا رہا ہے… مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ میں بھی اسی ایک کو چاہتا ہوں جو لفظوں کے پیچھے ہے اور اشاروں کے پار۔"
ساگر کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ ملیکہ کے لفظ اُس کے دل کے اندر بجتے ہوئے ساز کی طرح گونج رہے تھے۔ باہر پہاڑوں پر ہوا کی سرگوشی تھی، اور اندر چراغ کی ٹمٹماتی روشنی اُن دونوں کے چہروں کو روشن کر رہی تھی۔
ساگر نے آہستہ سے کہا:
کیا میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہو سکتا ہوں؟
کیا میں بھی اُس حقیقت کی تلاش میں تمہارے ہم قدم بن سکتا ہوں؟"
ملیکہ نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک اجنبی لرزش اُتری، جیسے دل کے راز کو کوئی چھو گیا ہو۔ وہ دھیرے سے مسکرائی، اور بولی:
ساگر… یہ راستہ آسان نہیں۔ یہ صرف کتابوں اور نشانیوں کا نہیں، بلکہ دل کو جلانے اور نفس کو قربان کرنے کا سفر ہے۔
جو یہاں قدم رکھے، وہ پھر واپس نہیں پلٹ سکتا۔"
ساگر نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا، اور پُرعزم لہجے میں بولا:
"میں واپس پلٹنا نہیں چاہتا۔
اگر یہ وادیٔ عشق ہے، تو مجھے بھی اپنے اندر سمیٹ لے۔
مجھے تمہارے ساتھ اُس راز کی تلاش میں شامل ہونا ہے، جو سب مذہبوں کے پار ہے۔"
ملیکہ کی آنکھوں میں ایک خاموش چمک جاگی۔ اُس نے کچھ نہ کہا، صرف اپنے دل میں دعا کی، جیسے ساگر کی شمولیت کو خود آسمان کے حوالے کر دیا ہو۔
ملائکہ کے لب خاموش تھے مگر آنکھوں میں ایک اقرار چھپا ہوا تھا۔ اُس نےآہستگی سے اُٹھ کر کمرے کے کونے میں رکھی ہوئی پرانی صندوقچی کھولی
۔ جس سے لکڑی کی خوشبو اور پرانے اوراق کی مہک اٹھنے لگی۔
ساگر کی سانسیں رک سی گئیں، جیسے وہ کسی انجان تقدیس کے دہانے پر کھڑا ہو۔
ملیکہ نے ایک موٹی کتاب نکالی، اُس کے اوراق پر سنہری روشنائی سے آیات اور نغمے درج تھے۔ کبھی عبرانی میں، کبھی سنسکرت میں، کبھی عربی میں۔
ساگر… یہ کتابیں میری نہیں، یہ سب اُس کی ہیں۔
یہاں زبور کی صدائیں ہیں، ویدوں کی روشنی ہے، توریت کی گواہی ہے، اور قرآن کا نور ہے۔
سب اُسکی عج باتیں کرتی ہیں ان میں اُسکی عج حمد ہے نشانیاں ہیں
وہ جو سب کا ہے،
وہ جو محبت ہے،
وہ جسے آنا ہی ہے…"
ساگر کی سانسیں رُک سی گئیں، جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ کسی اور جہان میں کھنچ رہا ہو۔
ملیکہ نے آہستگی سے پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا:
"میں اسی کے انتظار میں اِن پہاڑوں پر براجمان ہوں۔
میں نے پہاڑوں کو اپنا ہمراز بنایا ہے… کیونکہ یہ بھی تو اُسی کے انتظار میں ہیں۔
کیا تم نے نہیں سنا؟ قرآن میں کہا گیا ہے، اُس روز یہ پہاڑ رُوئی کے گالوں کی مانند اُڑنے لگیں گے۔
کیوں اُڑیں گے؟
کیونکہ یہ بھی اُس امر کے منتظر ہیں۔
یہ سکون کی حالت میں خاموش کھڑے ہیں… اور وہ آنے والا، اُولوالامر، جب حکم دے گا، یہ پہاڑ بھی اُس کے فرمان سے پرواز کرنے لگیں گے۔"
ساگر نے ملائکہ کی طرف دیکھا، اُس کے وجود سے نکلتی روشنی اور کلام کی گہرائی نے اُس کے دل میں ایک لرزہ ڈال دیا۔
اُس نے دل ہی دل میں کہا:
"کیا میں بھی اس انتظار میں شریک ہو سکتا ہوں؟"
ساگر… یہ جو تم دیکھ رہے ہو، یہ کتابیں، یہ نشانیاں، یہ رقص، یہ پہاڑ—سب ایک ہی راز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اصل عشق کسی صورت، کسی مجسمہ، یا کسی فانی وجود کا نہیں۔
اصل عشق اُس کا ہے… جس نے ہمیں بنایا، جو ہمیں اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔"
وہ لمحہ بھر کو رُکی اور اپنی نظریں آسمان پر ڈالیں، پھر ساگر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی:
"عشق وہ ہے جو انسان کو اُس کے خالق سے ملا دے۔
عشق کسی ایک مذہب، کسی ایک رسم کا نہیں… یہ تو سب کا ہے۔
یہ وہ سفر ہے جو ہر دل کو واپس اپنے اصل کی طرف لے جاتا ہے۔
اور میں… میں اُس ملاقات کے انتظار میں ہوں۔
یہ پہاڑ، یہ وادیاں، یہ خاموش فضائیں—یہ سب میری طرح اُس کے امر کے منتظر ہیں۔"
✒️ "یوں لگ رہا تھا جیسے پہاڑوں کی خاموش فضاؤں میں ایک راز کھلنے کو ہے، مگر ابھی بھی سب کچھ پردے میں ہے۔
میں نے تمہیں اپنی وادیٔ انتظار دکھائی… یہ پہاڑ، یہ رقص، یہ مقدسات—سب میرے ہمراز ہیں۔"
🌿 "میری جستجو کسی ایک مذہب کی قید میں نہیں… یہ اُس ذات کی تلاش ہے جو سب میں بولتی ہے، سب میں چھپی ہے۔
🌿 "میں نے مقدسات کو جوڑا نہیں… میں نے بس اُنہیں پہچانا ہے کہ سب ایک ہی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔"
🌿 "میری تلاش منزل کی نہیں… اُس محبوب کی ہے جو راہوں کو بھی عبادت بنا دیتا ہے
میں تلاش میں نہیں… تلاش خود میرے اندر ہے۔ میں اُس کی منتظر نہیں… انتظار ہی اُس کا عکس ہے۔"
میری جستجو کسی آغاز یا انجام کی نہیں… یہ اُس عج محبوب کی ہے جو ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی۔"
میں ملیکہ ہوں… اور میرا رقص، میرا کرب، میری دعائیں—سب ایک ہی صدا ہیں: وہ آئے، اور یہ کائنات اپنے راز کھول دے۔"
Credits:
EB💫