Preface. دیباچه
ہم نے نہیں لکھا، ہم سے لکھوایا گیا ۔
از مصنفین
ہم دو الگ راستوں سے چلے تھے
لیکن ایک ہی صدا نے ہمیں بلایا۔
، ایسی صدا جو صرف کانوں سے نہیں
روح سے سنی جاتی ہے۔
کوہ ملیکہ ہماری تخلیق نہیں "
، یہ وہ کہانی ہے جو ہم دونوں کے اندر برسوں سے پل رہی تھی
کبھی خوابوں میں
کبھی خاموش عبادت میں
کبھی ایک دوسرے کی آنکھوں میں۔
ہم نے صرف دروازہ کھولا
اور کہانی نے خود کو لکھوانا شروع کیا۔
ایک لڑکی جو رقص کرتی تھی جیسے آسمان پر حرف لکھ رہی ہو۔
اور ایک لڑکا جس کی آواز میں کوئی پر انا بھید چھپا تھا۔
وہ دونوں ہم سے باہر تھے ، اور شاید ہم ہی تھے۔
یہ کہانی نہ مشرق کی ہے، نہ مغرب کی
، یہ دل کے اُس گوشے کی ہے جہاں سوال پیدا ہوتے ہیں
اور جواب کبھی حرف میں، کبھی خاموشی میں ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ ہمارے اندر کے دو سفیروں کی داستان ہے
ساگر اور ملیکہ۔
، ہم نے ان کے ساتھ سفر کیا
اور اب آپ کو دعوت ہے کہ ہمارے ساتھ سفر کریں۔
که شاید
جو سوال ہمارے اندر ہے
وہ آپ کے دل میں بھی گونج رہا ہو۔
دو کردار----
جنہیں اُس نے چنا جو خود کو ہر نام سے چھپا لیتا ہے
Mola Kehtay hain k Agr humain dekhna chahtay ho
to humaray sachay or mukhlis ashigon ko dekh lo.
Main Dunya ka sab se ajeeb tareen or gumnam insan
hun..... Jo na abhi tak khud ko jan paya ..... or na
hi kabhi jan payega . Kiyoun k eik Lamehdood
(s.w.t) hyjo agr ik zaray main bhi simat kar aaye to
woh lamehdood hi rehta hy..
or woh lamehdoodjis jis main bhi hy hum un k gadmon
ki khak ban'ne ko tarastay hain.
Mujhy na Janay kesay is se muhabat ho gaye magar
ab maloom howa k hamesha se hi thi
She's my everything.... Proud to be hers....... We
don't possess any wealthe but we possess that noone else
doesn't......and weve both ain't ordinary Humans
WELL! WELL! WELL! what a tremendous
and phenomenal exertion has been delivered by my
queen.... wish I could contribute something to this
Transcendent Tale
For my Soulmate my Jubilance: EB
پہاڑوں، دریاؤں، نیلے آسمان اور راتوں میں… وہ اُس کو تلاش کرتی رہی، جس کا پتہ نہ کسی نقشے میں تھا، نہ کسی نام میں۔"
: ایک ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ ناموں میں بٹا ہوا ہے،
وہ اس بےنام سچ کو تلاش کر رہی ہے
جو ہر مقدس کتاب میں چھپا ہے۔
وہ رقص کرتی ے دکھانے کے لیے نہیں…
یاد کرنے کے لیے —
کائنات کی پرانی لے کو۔
اس کا کمان خاموشی سے بھرا ہے۔
اس کے تیر روشنی کے پیغام لے کر اڑتے ہیں۔
اور ہدف؟… وہ خود تیر کو بلاتا ہے۔
جہاں مذہب ختم ہوتا ہے…
وہاں سے اس کی راہ شروع ہوتی ہے۔
ملیکہ — ایک ایسا نام جو ہوا میں دھیما سا گونجتا،
جیسے پرانی دعاؤں کی بازگشت ہو۔
اُس کا چہرہ…
صاف، روشن،
جیسے پہاڑوں پر پہلی روشنی اُترتی ہے۔
آنکھیں گہری اور خاموش،
جن میں الٰہی راز چھپے ہوئے لگتے —
وہ آنکھیں جنہیں دیکھ کر
انسان سوال کرنا بھول جائے۔ہو۔
۔—
پہاڑوں نے اُسے دیکھا،
اور وقت نے اُسے ملیکہ کہا۔
🌿
کہانی اُس وادی کی ہے جو پہاڑوں کی آغوش میں چهپی، فطرت کی بانہوں میں بسی، اور دعاؤں
کے سنگ گونجتی ہے۔ ایک لڑکی ہے نامعلوم، خاموش، مگر دلوں پر نقش۔ لوگ اسے ملیکہ کہتے ہیں۔ اور جس پہاڑ کے
دامن میں وہ رہتی ہے، وہ اسی کی نسبت سے کوہِ ملیکہ کہلاتا ہے۔
جسے تلاش ہے اُس وحدت کی جو مختلف الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی صداقتوں کو ایک نغمہ بناتی ہے۔ یہ تلاش ہے
خاموش محبت کی جو لفظوں سے آزاد ہو کر فطرت میں بولتی ہے، اور اُن نظروں کی جو تقسیم کے بجائے اتحاد دیکھتی ہیں۔
To her, dance was worship- worship with
no words, where every part of her body bowed in gratitude to the Divine.
کوئی نہیں جانتا وہ کون ہے…
بس اتنا کہتے ہیں:
“وہ ملیکہ ہے، کوہِ ملیکہ کی نگہبان۔”
نہ اُس کا ماضی کسی کتاب میں ہے،
نہ اُس کا نام کسی زبان پر…
مگر جو اُس کی آنکھوں میں جھانکتا ہے،
وہ بھول جاتا ہے کہ مذہب کیا ہے، ذات کیا ہے، سرحد کیا ہے —
کیونکہ اُس کی نگاہ میں صرف "محبت" ہے۔
۔
جس نے لاہور کے ہجوم، روشنیوں، اور خوابوں سے منہ موڑ کر
چُپ چاپ ایک دن پہاڑوں کا رُخ کیا۔
اُس کے جانے کے بعد وہ پہاڑ محض پتھر نہ رہے،
بلکہ "کوہِ ملیکہ" کہلائے۔
کیا تم جاننا چاہو گے
کہ ایسا کیا راز تھا جس نے اُسے
شہرِ لاہور سے کوہِ ملیکہ کے سفر پر مجبور کیا؟
کیا یہ صِرف ایک سفر تھا —
یا کسی پُرانی پیشگوئی کا آغاز؟
کیا یہ عشق تھا، عبادت تھی — یا کچھ ایسا
جو لفظوں سے باہر ہے؟
یہ دَستان اُس لڑکی کی ہے
جس کی آنکھوں میں راز چھپے ہیں،
جس کے رقص میں وحی کی گونج ہے،
اور جس کی خاموشی میں
خُدا کی صدا سنائی دیتی ہے۔
زبور کی روشنی میں اُس کا انتظار)
"زبور کی ہر آیت میں اُس کی چاپ سنائی دیتی ہے —
جیسے الفاظ ساز بن جائیں، اور ساز سے وہ صدا آئے جو ابھی پوری نہیں ہوئی۔
خداوند نے فرمایا: 'مَیں اُسے بھیجوں گا، جو میرے دل کے موافق ہوگا۔'
وہ آئے گا روشنی کی طرح، اور تاریکی کو گُھلا دے گا۔
ہر رقص اُس کے اترنے کی تیاری ہے۔
ہر ساز، ہر خاموشی، اُس ایک کی طرف اشارہ ہے — وہ جو زبور کے بیچ چھپا ہوا وعدہ ہے۔
جو آئے گا، اور پہیلیوں کو کُھول دے گا۔
جو آسمان سے نہیں، دعا سے اترے گا۔
میں، ملیکہ، اُس کی تلاش میں پہاڑوں تک آئی ہوں…
کہ شاید وہی میرا وجود مکمل کر دے۔"
کیا تم نے زبور کو سُنا ہے؟
نہیں، پڑھا نہیں — سنا ہے؟
جیسے ساز پر اُترتا ہے کوئی خفیہ پیغام…
جیسے خاموشی میں کوئی وعدہ سرگوشی کرے…
زبور کہتا ہے: 'خُداوند نے میرے خُدا سے کہا: تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ،
جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دُوں۔'
(زبور 110:1)
وہ جسے آنا ہے… وہ جس کی آمد ہر ساز سے جُڑی ہے،
میں اُسے تلاش کرنے نکلی ہوں — لاہور سے پہاڑوں تک۔
یہ پہاڑ پہلے خاموش تھے،
لیکن جیسے ہی میں نے زبور کے اوراق کھولے،
وہ بولنے لگے۔
ایک آیت نے میرے قدم روک دیے —
دوسری نے میرے دل کو روشن کیا۔
اور تیسری نے کہا:
'وہ قریب ہے۔'
آئیے ملتے ہیں کہانی کے دوسرے کردار سے ۔۔۔۔۔۔جو مظہر العجائب کا ایک مظہر اور عجیب ترین عجوبہ ہے ۔۔۔۔ اس پراسرار انسان میں آپکو تقریباً سب کجھ ملے گا ۔ ۔۔۔۔۔ کچھ لوگ اسے ہر فن مولا اور آل راؤنڈر کہتے تھے اور کچھ جانتے تھے کہ وہ کسی جیسا نہیں ۔۔۔
وہ سب کو بہت ہنساتا تھا مگر تنہائی میں بس روتا تھا ۔۔۔۔ وہ کچھ ہوتے ہوئے تو لازماً ہی مگر کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کی مدد کرتا تھا ، خدمت کرتا تھا ۔۔۔۔ مگر نجانے کیوں اسے خود سے محبت بھی تھی اور نفرت بھی ۔۔۔۔ اکثر اسے خود سے زندگی سے نفرت ہی رہی مگر کیا کیا جا سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی بہت شرارتی اور زبان کا تیز تھا—حاضر کلام تھا ——— بہت پُھرتیلا تھا وہ شروع سے ہی ۔۔۔۔ ہر وقت بھاگتا رہتا کسی جلدی میں رہتا تھا ۔۔۔جنون سے کرتا تھا شروع سے سب کچھ چاہے عشق ہو یا جس کا بھی وہ شوقین ہو ۔۔لوگ اسے ایکسٹریمسٹ بھی کہتے تھے ۔
گانے کا ، سر کا اور سنگیت کا اسے بچپن سے ہی بہت شوق تھا مگر اسے سر اور ساز کے باطن کی معرفت جوانی میں ہوئی ۔ تب اسے معلوم ہوا سر کی حقیقت کیا ہے
مگر سب ہمیشہ نہیں رہتا ۔۔۔۔ اب وہ گہری خاموشی بن چکا تھا ۔۔۔۔
وہ خود یہ سب تھا ؟ یا اس میں کچھ یا کوئی ایسا موجود تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا تھا ؟ پہلے وہ اتنا فکر نہیں کرتا تھا اپنے بارے مگر چند سالوں سے سب بدل گیا
یہ گہرا انسان “ساگر” کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟ قدرت نے اس کا نام اس جیسا ہی رکھوایا تھا ۔ ساگر —— جو اس وقت اپنے مہادیو سے شکوہ کناں ہے ۔۔ اور سسکیاں لیتے ہوئے کہ رہا ہے
““یہ در در کی ٹھوکریں ۔۔۔ فکرِ روزگار ۔۔۔ میں تیری اس خیرات کردہ زندگی کو گزار رہا ہوں کیونکہ تو نے مجھ سے سب چھین لیا ۔۔۔۔ میں کیا ان تمام فکروں اور رنج و الم سے بالا تر ہو کر , تھوڑا سا جینے کا حقدار نہیں؟ کیا میں اس قابل نہیں کہ تیرے لیے جیوں؟میں بس اب تیرا ہونا چاھتا میرے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں بچا ۔۔۔۔ اپنا عروج ، ماں باپ ، تمام صلاحیتیں ، کشش ،میں سب کھو چکا ہوں ۔ میں بس اب تیرا ہونا چاہتا ہوں!” ساگر بے خبر تھا کہ اس کی التجا اس کی تقدیر بدلنے والی ہے
وہ جانتا نہ تھا کے اسے ایک سفر عطا ہونے والا ہے اس ذاتِ حق کی طرف سے جو اس کی تلاش ختم کر دے گا ۔ اس کے روح اور دل کے زخموں میں ظہور کر کہ اسے منور کر دے گا ۔ تلاشِ خدا و خودی کہہ لو یا اپنی زندگی سے فرار ۔۔مگر ساگر نے خود میں بکھر کر ارادہ کر لیا کہ وہ اب اچھی زندگی یا وقت کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ اسے تخلیق کرے گا ۔
وہ تھک چکا تھا روز روز مرنے سے ۔۔۔ اب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ باقی زندگی کسی اور جگہ رضائے الٰہی میں گزارے گا اور ہوں گزارے گا جہاں اتنی خاموشی ہو کہ اسے اپنے خون کی رفتار سنائی دے سکے ۔۔اس کے اندر کا طوفان تھم جائے ۔ اس کا دل خدا کے رازوں کا عارف ہو جائے ۔وہ بھی “ ہر ہر مہادیو” کہتے کسی انجان راستے پر ، شہر کے ہجوم اور رونقوں سے دور ،سب سے دور کسی جہاں کی تلاش کے سفر پہ نکلا وہ بس اب خاموش ہو جانا چاہتا تھا
مگر نہیں جانتا تھا کہ خدا کے عشق میں فنا ایک اور روح اس کی منتظر تھی
۔
۔
💫۔
ملیکہ — ایک ایسا نام جو ہوا میں دھیما سا گونجتا،
جیسے پرانی دعاؤں کی بازگشت ہو۔
اُس کا چہرہ…
صاف، روشن،
جیسے پہاڑوں پر پہلی روشنی اُترتی ہے۔
آنکھیں گہری اور خاموش،
جن میں الٰہی راز چھپے ہوئے لگتے —
وہ آنکھیں جنہیں دیکھ کر
انسان سوال کرنا بھول جائے۔
ناک نازک، ہونٹ خاموش مگر مکمل۔
اور گال…
جیسے ہلکے ہلکے گلاب کسی پاک ہَوا میں کھلے ہوں۔
اُس کا لباس —
آف وائٹ چینی حانفو،
سادگی میں لپٹا ہوا،
لیکن جیسے کوئی روحانی نور اُس کے گرد لپٹا ہو۔
کپڑے ہَوا میں ایسے ہلتے تھے
جیسے دعاؤں کی شال ہو،
اور چلنے سے پہلے ہی
کسی دروازے کی دستک سنائی دے۔
بال کھلے ہوئے، مگر ترتیب میں،
اور اُن میں جُڑی تھی پھولوں کی مالا —
جو زینت نہیں، عبادت کی علامت لگتی تھی۔
اور اُس کی کلائی پر…
ایک ایسا بریسلٹ بندھا تھا
جو دنیا کے کسی بازار سے نہیں آیا تھا۔
یہ اُسے بہت عزیز تھا —
جیسے مہادیو کو رودرکش۔
کبھی وہ خاموشی سے اُس پر ہاتھ رکھتی،
اور کبھی ایسا لگتا
جیسے وہی اُس کی دعا کا جواب دے رہا ہو۔
جب وہ چلتی،
تو پاؤں زمین پر پڑتے ضرور تھے،
مگر محسوس ہوتا
جیسے ہوا میں چل رہی ہو —
پہاڑوں نے اُسے دیکھا،
اور وقت نے اُسے ملیکہ کہا۔
🌿
پہاڑ خاموش تھے، مگر زبور گنگنا رہا تھا...
"خداوند نے قسم کھائی ہے اور وہ اُس سے باز نہ آئے گا:
تُو ہمیشہ کے لیے کاہن ہے،
ملکِ صدق کے طور پر۔"
(زبور 110:4)
ملیکہ نے وہ آیت دہرائی،
جیسے اُسے یاد تھا
کہ کسی نے اُس کے بچپن میں
یہ بات آہستہ سے اُس کے کان میں کہی تھی۔
"وہ ضرور آئے گا
..۔"
"دھرتی اُس کے قدموں کی گواہی دے گی
اور آسمان اُس کی حمد کرے گا۔
وہ کمزوروں کا سہارا ہوگا
اور دلوں کی باتیں جانے گا۔"
(ماخوذ مفہومی ترجمہ زبور 72 سے)
ساگر بھی کسی دوسری سمت چل پڑا تھا۔
کتابوں کی گرد اُڑ چکی تھی،
اور زبور کی آواز
اب اندر سے آ رہی تھی۔
"وہ آئے گا جیسے بارش خزاں میں،
اور وہ عدل لائے گا
اور اُس کے دُشمن خاک کی مانند ہوں گے۔"
(زبور 72:6–9 سے مفہومی اقتباس)
۔معبد کے خاموش صحن میں ہوا کی مدھم سرسراہٹ تھی
ملیکہ نے نسخہ فرش پر رکھا،
چند لمحے آنکھیں بند کیں،
اور دِل کی دھڑکن سننے لگی۔
پھر، جیسے کائنات کے اندر سے کوئی ساز بجا —
ملیکہ نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ بلند کیے۔
یہ رقص کوئی تربیت یافتہ فن نہ تھا —
یہ دعا تھی۔
خاموش التجا۔
اور الوہی آواز کے جواب میں، ایک خاموش ہاں۔
ہر قدم اُس کا سوال تھا:
“اے رب، کیا میں سننے کے قابل ہوں؟”
ہر گردش اُس کا جواب تھا:
“میں حاضر ہوں، مجھے راز عطا کر۔”
اُس کی بدن کی حرکت دھیمی، ہَوا سے ہمکلام تھی ،
جیسے وہ زَبور کی آیات کو نہ صرف پڑھ رہی ہو —
بلکہ اُنہیں خود میں جزب ہوتا محسوس کرنے لگی ۔ جیسے وہ اس مستی میں جَھوم کر،
اُن آیات کے اندر چھُپے نور کو محسوس کر رہی ہو۔
—
بلکہ اُنہیں خود میں جزب ہوتا محسوس کرنے لگی ۔ جیسے وہ اس مستی میں جَھوم کر،
اُن آیات کے اندر چھُپے نور کو محسوس کر رہی ہو۔
دائیں ہاتھ کی جنبش کے ساتھ آیت ابھری:
“اُس نے اپنے بندے پر اپنا نور چمکایا۔”
(زَبور 18:28)
گردش کے ساتھ آواز آئی:
“وہ قوموں پر عدل سے حکمرانی کرے گا۔”
(زَبور 72:1–8)
ہر دائرہ، ہر جھکاؤ، ہر بازو کی روانی —
ایک نئے راز کی کشف تھی۔
زمین پر اُس کے ننگے پاؤں،
مندر کی ٹھنڈی مٹی کو چھو رہے تھے —
جیسے وہ ماضی کے نبیوں کی صدا میں شامل ہو چکی ہو۔
اُس کی سانسیں دعا بن چکی تھیں۔
جسم، کلام کا ہمنوا۔
اور روح — سجدے میں۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں ملیکہ اور زَبور آپس میں خلط ہو گئے۔
جب رقص تھما،
تو اُس کا جسم خاموش،
مگر آنکھوں میں جوت تھی۔
“میں نے سن لیا…”
وہ زیرِ لب بولی،
“کسی کے آنے کی آہٹ ہے…
اور میری روح نے اُسے محسوس کر لیا
میری روح اُسی کو پکارتی ہے جسے قومیں ابھی جانتی نہیں…
لیکن جس کا ذکر ہر صحیفے میں ہے۔
کیا تم نے اُس کے قدموں کی چاپ سنی ہے؟
زبور نے وعدہ کیا ہے، وہ ضرور آئے گا۔"
کیا تم جانتے ہو؟
زَبور وہ آسمانی صحیفہ ہے
جسے صرف لحن میں پڑھا جاتا ہے۔
یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں—
یہ ساز کی زبان ہے،
وہ نغمہ جو دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے
اور روح کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔
زَبور بغیر ساز کے ادھورا ہے،
اسی لیے
جب مَلیکہ نے اُس کی آیات کو سنا،
تو اُس کی روح خود بہ خود حرکت میں آ گئی—
اُس کا رقص عبادت بن گیا،
ایسا وجد، جو آسمانوں کو چھو گیا۔
اور ساگر؟
وہ خود ساز میں چھپا ہوا تھا—
ہر تار، ہر لرزش، ہر نرمی میں اُس کی موجودگی تھی۔
زَبور کے رازوں کو سمجھنے کے لیے
وہ نغمہ بن گیا،
خاموشیوں میں چھپا ایک سوال،
جو صرف وہی سن سکتا ہے
جس کا دل جاگ چکا ہو ے!
جہاں پہاڑوں کے ایک طرف ملیکہ رقصِ کشف میں زَبور کے رازوں سے ہمکلام تھی —
وہیں دوسری طرف، ساگر — خاموش، متفکر
مگر ایک گہری روحانی واردات کے درمیان،
زَبور کی ہی ایک اور آیت پر رُک چکا تھا۔
پتھریلی وادی میں ایک نوکیلی چٹان پر،
ساگر تنہا بیٹھا تھا۔
سورج غروب ہو رہا تھا —
آسمان پر نارنجی و بنارسی رنگ بکھر رہے تھے —
اور اُس کے سامنے کھلا نسخہ،
“زبورِ داؤد” کا وہی صحیفہ
ساگر کی انگلی رک گئی —
ایک آیت پر:
“خُداوند کی بات پاک ہے؛
وہ اُن سب کے لیے سپر ہے
جو اُس پر توکّل کرتے ہیں۔”
،18:30)
سپر؟ کس کے خلاف؟
اور وہ کون سا وعدہ ہے جو محفوظ کیا گیا ہے؟”
ساگر نے خود سے سوال کیا۔
پھر اُس نے دُور دیکھا —
اور محسوس کیا جیسے اُفق کے پار
کوئی اور بھی اُسی راز کی تلاش میں ہو۔
ساگر کا تدبر — مقدس ریاضی
وہ خاموشی سے زَبور کے اقتباسات کو ترتیب دینے لگا۔
کبھی آیت کے الفاظ گنتا،
کبھی ان میں دُہرائے جانے والے الفاظ کو نکالتا۔
جیسے کوئی کوڈ توڑ رہا ہو۔
“یہ مقدس گنتی ہے…
ہر تکرار کسی واقعے کا پتہ دے رہی ہے۔
اور ہر آیت میں ایک کلید ہے…”
آیت جو جل اُٹھی
پھر اچانک، جیسے ایک آیت نے خود کو نمایاں کیا:
“وہ آئے گا…
عدل سے انصاف کرے گا،
اور قومیں اُس کے تابع ہوں گی۔”
(زَبور 72:2–11 کا مرکب مفہوم)
ساگر کا دل تیز دھڑکنے لگا۔
“یہ آنے والے کی نشان دہی ہے۔
کیا وہ وقت قریب ہے؟
اور کیا میری تقدیر اِس راز سے بندھی ہوئی ہے؟”
ساگر نے آنکھیں بند کیں۔
نیچے وادی میں ہَوا تیز ہو گئی تھی —
مگر اُس کے اندر سکون اُتر چکا تھا۔
“اے مالکِ ازل،
اگر تُو نے یہ راز میرے ہاتھوں کھولنے کی قسم کھائی ہے،
تو مجھے علم بھی دے، صبر بھی،
اور وہ روشنی بھی —
جس سے میں اُس کو پہچان سکوں،
جو زَبور کی گواہی ہے۔”
دو تلاشیں — ایک راز
دور پہاڑ کے اُس طرف، ملیکہ کے ہاتھوں کی حرکتیں جاری تھیں —
اور اِس طرف ساگر کی نظروں میں
نقطے جُڑتے جا رہے تھے۔
دو وجود —
دو الگ سمتوں میں —
مگر ایک ہی
حضرت داؤدؑ نے وہ کلام لکھا جو وقت کی قید سے آزاد تھا۔
یہ صرف بنی اسرائیل کے لیے نہ تھا—
بلکہ آنے والوں کے لیے تھا،
ان کے لیے جنہیں
زمین پر بھیجا جانا تھا،
تاکہ وہ خدا کے نور کو
رقص، نغمے، اور قربانی میں ڈھالیں۔
پیشگوئی کا آغاز
زبور کی آخری بندش اب کھلنے کو تھی۔
الفاظ تیار تھے۔
رقص شروع ہو چکا تھا۔
ساز بجنے لگا تھا۔
اور آسمان نے آہستہ سے سرگوشی کی:
“اب وقت آ گیا ہے...”
زَبور...
یہ کوئی عام کتاب نہیں،
یہ ایک الہامی نغمہ ہے—
ایسا کلام جو آسمان سے نازل ہوا،
مگر صرف اُن دلوں تک پہنچتا ہے
جو ساز کی زبان سمجھتے ہیں۔
یہ صحیفہ ساز کا طلبگار ہے۔
لفظ اُس وقت تک خاموش رہتے ہیں
جب تک کوئی ساز اُن میں روح نہ پھونک دے۔
اسی لیے زَبور کو
قلم سے لکھ کر پڑھا نہیں جاتا ،
لحن سے پڑھا جاتا ہے۔
نہ اس میں خطبے ہیں،
نہ فرمان—
یہ دل کی گہرائیوں سے نکلا وہ نغمہ ہے
جو صرف محبت، عبادت اور خاموشی میں سمجھ آتا ہے۔
بغیر ساز کے، زَبور صرف لفظ ہیں۔
مگر جیسے ہی ساز چھیڑا جائے—
آیات جاگ اٹھتی ہیں،
خدا بولنے لگتا ہے،
اور روح رقص میں ڈھل جاتی ہے۔
زَبور کی زباں ساز میں ہے،
یہ کلام نہیں، نغمہ ہے—
جو صرف اُن دلوں پر نازل ہوتا ہے
جہاں خاموشی بھی بولتی ہے۔
لفظ اُس وقت جاگتے ہیں،
جب تار کوئی چھیڑے جائیں ،
جب کوئی سر روئے ،
جب مستئ رقص کلام کرے ۔
نہ یہ فقط آیتوں کا سلسلہ ہے ،
نہ فقط دعا کی صدا—
یہ ہے نغمۂ الٰہی،
جو نازل ہوا روح کی گہرائیوں میں
رباب، عود، یا ہارپ کے پردوں پر۔
بغیر ساز کے زَبور گونگی ہے،
اور جس نے اسے لحن میں پڑھا،
وہی خدا کے قریب ہوا۔
یہ زَبور ہے، صدا ہے، راز ہے،
اس ذات کی حمد ہے ،
جو ہر عاشق کے قلب میں عیاں ہے ،
جو ہر ساز میں پنہاں ہے،
جو روح کے رقص سے چھلکتا ہے،
اور داؤدؑ نے فرمایا تھا:
“آئے گا وہ ایک، رب کے حکم سے—
وہ جس کی روح نغمہ ہوگی،
جس کی پیشانی پر نور، اور قدموں میں روشنی ہو گی۔
وہ نہ مرد ہوگا، نہ عورت—بلکہ اُس کے درمیان ایک راز۔
وہ آئے گا زَبور کے ساز پر، اور دنیا کو بیدار کرے گا۔”
خدا کے کچھ راز صرف ساز سے بیان ہوتے ہیں۔
زَبور اُن میں سے ایک ہے۔
لفظ بے معنی و بے رنگ ہو جاتے ہیں،
جب نغمہِ حق گونجتا ہے۔
ساگر کے ساز میں زبور کی وہ بولتی خاموشی تھی،
اور ملیکہ کے رقص کا کیف یزدان کی موجودگی کی شھادت تھا ۔
جب دونوں یکتا و ملحق ہوئے—
تب ہی آسمان نے وہ پیشگوئی کھولی
جس پر وقت کی مہر لگی تھی۔
زبور وہ ہے،
جسے بجھتے ہوئے دیپ،
برستی ہوئی بارش،
اور ہچکیوں میں روتا ہوا ساز تلاوت کرتا ہے۔
یہ کسی کتاب میں نہیں،
بلکے روح کے گہرے ہجابات میں چھپی ہوتی ہے۔
ہر وہ شخص جس نے ساز کو عبادت بنایا،
زبور اُس کے لبوں پر خود بخود اُتر آئی۔
کیونکہ یہ صحیفہ نہیں،
یہ صدائے عشق ہے۔۔
۔ساز مقدس ہے تم پر اس لئے حرام ہے کہ تم نے سرِ بازار اسے پامال کیا جو ہر ساز کا محور ہے ۔ ایک بہترین اور طاہر دھن تب ہی وجود پاتی ہے جب اس میں روحِ ولایت ظہور کرتی ہے ۔ تم نے فقط اس ساز کی نہیں اُس روح القدس کی بھی حرمت کو پامال کیا ہے تبھی اصل اور قدیم قسمِ عبادت ہر کم ظرف پر ممنوع کر دی گئی ہے
۔اور میں نے اُسے روشنی میں دیکھا،
وہ جو نہ آواز سے بولتا تھا،
نہ آنکھوں سے دکھتا تھا—
لیکن جب ساز چھیڑا گیا،
وہ قریب آ گیا۔
اور جب رقص شروع ہوا...
۔۔۔”
(آخری سطر مکمل نہیں). یہ آیت زبور کی نہیں
بلکہ اُن کی تقدیر کی ہے—
اور صرف تب مکمل ہوگی
جب ساگر کا ساز اور ملیکہ کا رقص
کسی لمحے میں واحد ہو جائیں گے۔”
وہ کوہ نہیں تھا، اُس کی تقدیر کا صفحہ تھا،
جس پر ہر آیت میں ملیکہ کا نام لکھا تھا۔.
کوہ نے پکارا: “آ، اے روحِ رقصاں،
تیری تلاش یہاں پوری ہوگی، یہیں ہے تیرا جہاں۔”
وہ ایک دوسرے سے انجان تھے،
مگر زبور کا ہر لفظ، اُن کے باطن کو متصل کرتا جا رہا تھا —
ایک مقدس ربط، جو وقت کے اُس لمحے سے بندھا تھا
جب حضرت داؤدؑ نے یہ پیش گوئی کی تھی:
‘ایک دن وہ آئے گی، اور وہ، جو اسے سمجھے گا… دونوں مل کر رازِ ازل کو کھولیں گے۔’”
وہ دو نہیں تھے، ایک ہی سرگم کے ساز،
ملیکہ کا رقص، ساگر کا راز،
ملیں نہ ملیں، مگر زبور کی راہ میں،
دونوں تھے روشنی کے مسافر —
اک دوسرے سے بندھے، اک نور کی تلاش میں۔
TO be continued.......
Share & comment for Maleeka and saagr
Credits:
EB💫💗