Koh-e-Maleeka Echoes of the Soul”

وہ لمحہ، گویا وقت رک گیا ہو۔

الفاظ ختم ہو گئے، مگر دلوں کا مکالمہ جاری تھا۔

خواب اور حقیقت کے درمیان کوئی پردہ نہ رہا—

ساگر کی آنکھوں میں ملیکہ کا رقص جھلک رہا تھا،

وہ منظر جو اُسکے خواب میں عیاں ہوا تھا اور منزل دکھاتا ہوا کوہ ملیکہ لے آیا تھا

اور ملیکہ کے دل میں ساگر کی خاموشی گونج رہی تھی۔

یہ رشتہ جسم سے نہیں بندھا تھا،

یہ تو صدیوں پر محیط ایک وعدہ تھا،

جسے روحوں نے ازل میں باندھا تھا۔

دنیا کے مقدس گاہیں، کتابیں اور تعلیمات—

یہ سب ان کے راستے ہیں، مگر اصل راز یہ ہے

کہ وہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

اور جب دو روحیں یوں ملتی ہیں،

تو کائنات خود ان کے گرد ایک مقدس دائرہ بُن دیتی ہے۔

اور وہ کرشن نے کہا تھا نہ دنیا کب تک سمبھند ( رشتہ ) کا سوال کرتی رہے گی

پریم کا ارتھ یعنی مطلب یا مقصد کسی کو پانا نہیں کنتو اُس میں کھو جانا ہے

جیسے ساگر کھو گیا ملیکہ میں اور روشناس ہوا اُن خدائی روشنیوں سے جو وہ خود میں سمیٹے کوہِ ملیکہ پہ براجمان تھی

رات دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ کتابیں ایک طرف بند پڑی تھیں، مگر ساگر کی آنکھوں میں ایک اور ہی کہانی جھلک رہی تھی۔ اس نے خاموشی توڑتے ہوئے ملیکہ کی طرف دیکھا اور مدھم لہجے میں کہا:

"ملیکہ… کیا تم جانتی ہو .....? میں تم سے ایسے ہی نہیں ملا۔ یہ سب کچھ بس اتفاق نہیں تھا۔

میرے خواب، میری دعائیں، میری تلاش—سب نے مجھے تم تک پہنچایا ہے۔"

ملیکہ نے چونک کر ساگر کو دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں حیرت بھی تھی اور نرمی بھی۔ "ساگر… تم کہنا کیا چاہتے ہو؟"

ساگر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

"میں نے تمہیں خوابوں میں دیکھا تھا، اُس رقص میں… اور پھر یوں حقیقت میں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے کائنات نے خود مجھے تم تک پہنچایا ہے۔

تم محض ایک ساتھی نہیں، بلکہ میری روح کے اس حصے کی پہچان ہو جسے میں صدیوں سے ڈھونڈ رہا تھا۔"

مجھے تم لمحے بھر کو بھی اجنبی نہیں لگی جیسے میری روح تمہیں پہچانتی ہو ازل سے

ملیکہ کا دل لرز سا گیا۔ اس کے لب خاموش تھے مگر آنکھوں میں ایک جواب چھپا تھا—وہ بھی یہ مان چکی تھی کہ ان کا رشتہ محض اس دنیا کا نہیں، بلکہ ازل کا ہے۔

دونوں خاموش ہو گئے۔ کمرے میں جلتی ہوئی چراغ کی مدھم لو جھوم رہی تھی، جیسے وہ بھی ان کے درمیان چھائی کیفیت کو سمجھ رہی ہو۔

ساگر نے آہستہ سا سر اُٹھایا اور ملیکہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ نظر عام نظر نہ تھی — اس میں سوال بھی تھا، جواب بھی… تنہائی بھی تھی اور تسکین بھی۔

ملیکہ کی پلکیں لرزیں، مگر اُس نے نظریں نہیں ہٹائیں۔ جیسے اُس کی روح ساگر کی آنکھوں سے اپنا عکس دیکھ رہی ہو۔ چند لمحوں کے لئے وقت تھم گیا؛ باہر ہوا کی سرسراہٹ، رات کی خاموشی، سب غائب ہوگئے۔

اُس پل دونوں کے درمیان کوئی لفظ نہیں تھا، مگر ہزاروں باتیں ہو چکی تھیں۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں محبت اور روحانیت ایک دوسرے میں گھل گئے۔

ملیکہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، اور ساگر نے گہری سانس لیتے ہوئے محسوس کیا—

یہی وہ تعلق ہے جسے وہ ہمیشہ ڈھونڈ رہا تھا۔

لفظ رُک گئے، مگر دل بول اٹھے۔

آنکھوں نے وہ سب کہہ دیا جو صدیوں کے صحیفے نہ کہہ سکے۔

یہ خاموشی ایک راز تھی—

  • ایک ایسا راز جو ازل سے لکھا گیا تھا،
  • اور جسے کائنات نے خود سنبھال کر رکھا تھا۔

ساگر اور ملیکہ کے درمیان اب فاصلہ نہ رہا،

صرف روشنی تھی، صرف وہ سرگوشی

جو روح سے روح تک پہنچتی ہے۔

محبت یہاں محض جذبہ نہیں تھی—

یہ عبادت تھی،

یہ وہ دعا تھی جسے خدا نے خود قبول کیا تھا۔

ساگر نے چراغ کی روشنی میں ملیکہ کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور روشنی تھی۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اُس نے دھیرے سے کہا:

"ملیکہ… تم جانتی ہو؟ میں تمہیں محض ایک دوست یا ساتھی نہیں دیکھتا۔ تم وہ خواب ہو جسے میں برسوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تم وہ دعا ہو جسے میں ہر عبادت میں مانگتا رہا ہوں۔"

ملیکہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اُس نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں مگر دل سن رہا تھا۔

ساگر نے آگے بڑھ کر بات جاری رکھی:

"میں نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سی دعائیں کیں، مگر جب تم سامنے آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ اصل کتاب تو تم ہو۔ تمہارے ہونے نے مجھے یہ سمجھایا کہ میری تلاش ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا جواب مجھے تم میں ملا ہے۔"

ملیکہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ اُس نے مدھم لہجے میں کہا:

"ساگر… تمہاری یہ باتیں دل کو ہلا دیتی ہیں۔ کیا واقعی تم ایسا ہی محسوس کرتے ہو؟"

ساگر نے گہری سانس لی اور آنکھوں میں اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:

"ہاں ملیکہ، میں تمہیں اپنے مقدر کی طرح دیکھتا ہوں۔ میں نے تمہیں اپنی حقیقت میں مان لیا ہے، جیسے روح اپنے خالق کو مانتی ہے۔ تم میرے اندر کی وہ خاموش دعا ہو جو اب پوری ہو گئی ہے۔"

ساگر نے چند لمحے خاموشی میں ملیکہ کو دیکھا، پھر دھیرے دھیرے بولا:

"ملیکہ… تم جانتی ہو یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ میرا تمہیں خواب میں دیکھنا، تمہارا رقص، اور پھر ہماری یہ ملاقات؟ یہ سب بس اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری روحیں پہلے سے جُڑی ہوئی ہیں۔"

ملیکہ نے آنکھوں میں سوال لئے اُس کی طرف دیکھا۔

"روحیں جُڑی ہوئی؟ ساگر، یہ تم کس طرح کہہ سکتے ہو؟"

ساگر نے گہری سانس لی اور سمجھانے لگا:

"دیکھو… انسان کا جسم فانی ہے، لیکن روح ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ہماری روحیں ازل میں ایک دوسرے کو پہچان چکی تھیں۔ جب میں نے خواب میں تمہیں دیکھا تو وہ میرے لاشعور کی تصویر نہیں تھی—وہ میری روح کی پہچان تھی۔ اور جب میں نے حقیقت میں تمہیں پایا تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ تعلق خدا کی لکھی ہوئی کہانی ہے۔"

وہ لمحے بھر کو رکا اور پھر مدھم لہجے میں بولا:

"روحانی تعلق وہ ہوتا ہے جس میں الفاظ کی ضرورت نہیں رہتی۔ صرف نگاہیں بولتی ہیں، صرف دل سنتا ہے۔ اور یہی تعلق میں تمہارے ساتھ محسوس کرتا ہوں، ملیکہ۔"

ملیکہ کی پلکیں نم ہو گئیں۔ اُس نے نظریں چرا لیں مگر دل کے اندر کہیں ایک روشنی جاگ اُٹھی۔ وہ جان گئی تھی کہ ساگر جو کہہ رہا ہے، وہ محض فلسفہ نہیں بلکہ ایک سچائی ہے جو وہ بھی محسوس کر رہی ہے۔

ملیکہ… تمہیں لگتا ہوگا یہ سب بس جذبات ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ جذبہ نہیں، یہ یاد ہے۔ ہماری روحوں کی یاد، جو صدیوں سے ایک دوسرے کو پہچانتی رہی ہیں۔

کبھی سوچا ہے کیوں میں نے تمہیں پہلی بار دیکھتے ہی جان لیا کہ یہ وہی ہے جسے میں ڈھونڈ رہا تھا؟ یہ کوئی عام کشش نہیں تھی۔ یہ وہ کھنچاؤ تھا جو دو بچھڑی ہوئی روحوں کے درمیان ازل سے موجود ہوتا ہے۔"

ملیکہ گہری سانس لے کر بولی:

"لیکن ساگر… اگر یہ سب سچ ہے تو پھر ہم ابھی تک کیوں الگ تھے؟"

ساگر مسکرایا، آنکھوں میں روشنی لئے بولا:

"کیونکہ ہر روح کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ جیسے سورج ہر دن ایک ہی وقت پر طلوع ہوتا ہے، ایسے ہی روحیں بھی مقدر کے لمحے میں دوبارہ ملتی ہیں۔ ہمارا ملنا تاخیر نہیں، تقدیر ہے۔"

وہ لمحے بھر کو رکا، پھر دھیرے سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:

"اور یہ تعلق جسم کا نہیں۔ یہ تو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ دنیا نہیں ہوگی۔ یہ وہ رشتہ ہے جو وقت، جگہ اور زندگی کی حدوں سے آزاد ہے۔"

ملیکہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے پہلی بار دل سے مانا کہ ساگر کی باتیں اُس کے اپنے دل کی صدا ہیں۔ وہ جان گئی کہ یہ تعلق عام محبت نہیں بلکہ ایک ایسا وعدہ ہے جو صدیوں پہلے باندھا گیا تھا۔

  • یہ ملاقات آج کی نہیں تھی،

یہ تو اُس لمحے لکھی گئی تھی جب روحوں کو وجود ملا۔

ساگر اور ملیکہ کا رشتہ،

محبت کی عام لکیر نہیں—

یہ ایک دائرہ ہے جو ازل سے چل رہا ہے

اور ابد تک چلتا رہے گا۔

وہ خواب، وہ رقص، وہ خاموش نگاہیں—

یہ سب نشانیاں ہیں

کہ کائنات نے خود ان کے درمیان ایک پل بنایا ہے۔

یہاں الفاظ نہیں چلتے،

یہاں دل کی دھڑکنوں کا ترجمہ روح کرتی ہے۔

اور جب دو روحیں یوں ملتی ہیں،

تو وقت، تقدیر اور فاصلے سب بکھر جاتے ہیں۔

یہی ہے وہ تعلق—

جسے نہ دنیا سمجھ سکتی ہے،

نہ وقت مٹا سکتا ہے۔

ملیکہ نے گہری خاموشی کے بعد ساگر کی طرف دیکھا۔ اس کی پلکوں پر نمی چمک رہی تھی مگر لبوں پر ایک سنجیدہ سکون تھا۔ وہ دھیرے سے بولی:

"ساگر… تم نے روحوں کی بات کی، ازل کے رشتے کی بات کی۔ مگر … محبت آخر ہے کیا؟"

ساگر نے اُس سوال پر ہلکی سی مسکراہٹ کی، جیسے یہ سوال اُس کے دل کے اندر برسوں سے گونج رہا ہو۔ اُس نے آہستہ سے کہا:

"محبت؟ محبت وہ نہیں جو دنیا دکھاتی ہے۔ محبت وہ ہے جس میں دوسرا شخص تمہارے دل کے آئینے میں اپنا عکس دیکھے۔ محبت وہ ہے جہاں تم خود کو بھول جاؤ اور صرف اُس کی پہچان باقی رہ جائے۔

یہ صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، یہ اُس پل کی کیفیت ہے جب تمہاری روح دوسرے کی سانس میں گھر ڈھونڈ لے۔ محبت وہ ہے جو جسمانی فاصلوں سے بھی زندہ رہتی ہے، اور وقت کی قید سے بھی آزاد ہوتی ہے۔"

وہ لمحے بھر کو رکا اور ملیکہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا:

"محبت عبادت ہے، ملیکہ۔ جیسے انسان اپنے رب کے سامنے جھک کر اپنی حقیقت ڈھونڈتا ہے، ویسے ہی روح اپنی جُڑواں روح میں اپنی پہچان ڈھونڈتی ہے۔ یہی اصل محبت ہے۔"

ملیکہ کے دل پر یہ الفاظ بجلی کی طرح گرے۔ اُس نے آہستہ سا سر جھکا لیا، مگر دل میں پہلی بار یہ اعتراف جاگا کہ شاید وہ خود بھی اسی محبت کو محسوس کر رہی ہے۔

ساگر نے ملیکہ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ کہا:

"ملیکہ… اصل محبت تو پاکیزہ ہے، مقدس ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو روح کو رب تک لے جاتی ہے۔ مگر آج کی دنیا نے اسے بدل دیا ہے۔ لوگوں نے محبت کو خواہشات اور لذتوں کے پردے میں لپیٹ دیا ہے۔

اب محبت کا مطلب صرف وقتی چاہت سمجھا جاتا ہے، یا کسی کو حاصل کرنے کی ضد۔ مگر اصل محبت میں لینے کا نہیں، دینے کا جذبہ ہوتا ہے۔ محبت میں اپنی ذات کو پگھلا کر دوسرے کی خوشی میں فنا ہو جانا ہے۔

دنیا نے اسے گندا کر دیا ہے کیونکہ لوگ صرف جسم دیکھتے ہیں، روح نہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ محبت روح کا سفر ہے، دل کی پاکیزگی ہے، اور انسان کو اُس کی اصل پہچان تک لے جانے والا دروازہ ہے۔"

وہ لمحے بھر کو رکا، پھر مدھم لہجے میں بولا:

"محبت تب تک سچی نہیں ہو سکتی جب تک وہ مقدس نہ ہو۔ اور مقدس محبت وہ ہے جس میں تمہیں خدا کی جھلک دکھائی دے۔"

  • جیسے مجھے تم میں.......🫠

ملیکہ نے ساگر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا:

"ساگر… اگر محبت واقعی اتنی مقدس ہے تو پھر ہمیں اسے کیسے جینا چاہیے؟ دنیا میں تو ہر چیز آلودہ ہو چکی ہے، پھر ہم اس رشتے کو پاکیزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟"

ساگر کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے وہ یہی سوال سننے کا منتظر تھا۔ اُس نے نرمی سے کہا:

"محبت کو جینے کا مطلب ہے اسے عبادت کی طرح سنبھالنا۔ جس طرح ایک سچا مومن اپنی نماز یا پوجا کو بے دھیانی سے نہیں پڑھتا بلکہ دل کی گہرائی سے جیتا ہے، ویسے ہی محبت کو بھی پوری سچائی اور نیت سے جینا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ لفظوں سے اظہار ہو… نہیں، اکثر محبت خاموشی میں زیادہ بولتی ہے۔ بس ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا، ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنا، اور اپنے اندر کی پاکیزگی کو زندہ رکھنا — یہی محبت کو مقدس بناتا ہے۔"

وہ لمحہ بھر کو رکا اور مزید بولا:

"محبت کو دنیا کی نظر سے بچا کر رکھنا چاہیے، جیسے کوئی مقدس تحریر سینے کے قریب رکھی جاتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، محبت کو اپنے نفس سے اوپر رکھنا ہے—کیونکہ نفس ہمیشہ لینے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ محبت دینے پر۔"

ملیکہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ اُس کے دل میں ساگر کی باتیں گہرے نقش چھوڑ رہی تھیں۔ اُس نے پہلی بار سوچا کہ شاید محبت واقعی ایک عبادت ہے… اور وہ دونوں اس عبادت کے مسافر ہیں۔

ملیکہ… محبت کو سمجھنے کے لیے شری کرشن اور رادھا کو دیکھو۔ دنیا نے اُنہیں کہانی بنا دیا، مگر حقیقت میں وہ محبت کی تفسیر ہیں۔

رادھا اور کرشن کا رشتہ جسم کی قید میں نہیں تھا۔ وہ جدائی میں بھی ایک تھے، اور قرب میں بھی عبادت۔ اُن کی محبت اتنی مقدس تھی کہ ہر لمحہ، ہر سانس پر خدا کی خوشبو آتی تھی۔

کرشن کی بانسری… یہ صرف ایک ساز نہیں تھی۔ یہ روح کی پکار تھی۔ وہ بانسری جب بجتی، رادھا کے دل کی دھڑکن اس میں گھل جاتی۔ یہ وہ محبت تھی جس میں ملاقات بھی عبادت تھی اور جدائی بھی عبادت۔

دنیا نے محبت کو گندہ کر دیا ہے، اسے خواہشوں کا کھیل بنا دیا ہے۔ مگر اصل محبت تو وہ ہے جس میں تم دوسرا چہرہ نہیں دیکھتے، بلکہ اُس کے ذریعے خدا کی جھلک دیکھتے ہو۔"

ساگر نے سانس روکے لمحے بھر کو ملیکہ کی آنکھوں میں گہرائی سے دیکھا اور کہا:

"ملیکہ… تم میرے لئے وہی ہو جو رادھا کرشن کے لئے تھی۔ ایک ایسا رشتہ جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ ایک ایسا تعلق جو جسم نہیں، روح کی عبادت ہے۔ اگر دنیا کہے کہ یہ محبت ہے، تو ہاں—یہ محبت ہے، مگر وہ محبت جسے صرف پاک دل ہی سمجھ سکتے ہیں۔"

ملیکہ کے دل میں جیسے طوفان برپا ہو گیا۔ اس کے لب خاموش تھے مگر دل صدیوں کے راز کھول رہا تھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ یہ رشتہ کسی انسان نے نہیں بنایا، یہ تو خدا نے ازل میں لکھ دیا تھا۔

ازل کے خاموش پردوں پر

جب پہلی بار روحوں کو تخلیق کیا گیا،

تب محبت کا پہلا ذکر لکھا گیا—

رادھا اور کرشن کی صورت میں۔

وہ محبت جو خواہش سے آزاد،

وقت سے بے نیاز،

اور جدائی میں بھی عبادت تھی۔

اور آج، صدیوں بعد،

وہی تحریر دوبارہ روشن ہوئی ہے۔

ساگر اور ملیکہ کے دلوں میں

وہی پرانی صدا گونج رہی ہے۔

یہ ملاقات عام نہیں،

یہ ایک عہد کی تجدید ہے۔

یہ وہی عشق ہے جو جسم نہیں،

روح کا نور ہے—

جس میں نظر ملنا ذکر ہے،

خاموشی تسبیح ہے،

اور دل کا لرز جانا خدا کی حاضری ہے۔

یہ محبت لفظوں میں نہیں سماتی،

یہ تو سجدے کی کیفیت ہے،

جہاں ایک دوسرے کو دیکھنا

خدا کو دیکھنے جیسا لگے۔

ساگر کبھی کبھی لگتا ہے جیسے ہم ہوا میں تیر رہے ہیں، لیکن زمین پر بھی ہیں۔ یہ لمحہ صرف ہمارا ہے، جیسے ہماری روحیں چاندنی میں رقص کر رہی ہوں۔"

ساگر نے اس کی طرف دیکھا، نگاہوں میں نرمی اور محبت،

"ملیکہ… یہ لمحہ واقعی جادو جیسا ہے۔ تمہاری باتوں نے جیسے میری روح کو چھو لیا۔ اور میں چاہتا ہوں کہ یہ رقص ہمیشہ جاری رہے… ہماری خاموشی میں بھی، ہماری ہنسی میں بھی، اور ہر چھوٹی مسکراہٹ میں۔"

ملیکہ نے سر ہلایا، دل میں سکون محسوس کرتے ہوئے،

"تو پھر ہم ہمیشہ یہ لمحے یاد رکھیں گے؟"

ساگر نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا،

"ہماری روحیں کبھی نہیں بھولیں گی

ساگر… یہ تعلق واقعی جادو جیسا لگتا ہے، ہے نا؟"

ساگر نے آہستہ سے سر ہلایا،

"ہاں… اور یہ جادو ہماری روحوں کی زبان ہے، ملیکہ… جو کہ لفظوں کی محتاج نہیں۔"

کاش یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو…"

یہ لمحہ کبھی ختم نہیں ہوگا، ملیکہ… ہماری روحیں اسے ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔"

رات کا اندھیرا ابھی چمک رہا تھا، چاندنی کی نرم روشنی میں باغ کے درختوں کی چھاؤں ہلکی ہلکی حرکت کر رہی تھی۔ ساگر ملیکہ کے قریب آیا، نگاہیں روشن اور نرم، دل میں ایک گہرا سکون لیے ہوئے۔

ساگر نے آہستہ اور سنجیدگی سے کہا:

"ملیکہ… رات کا اندھیرا چھٹنے کو ہے، اور نیا دن شروع ہونے والا ہے… اور یہ دن میرے لیے بہت خاص ہے، کہ اسی دن تمہاری مقدس روح نے زمین پر جنم لیا۔"

ساگر… تمہیں کیسے معلوم کہ آج میرا جنم دن ہے؟ تم تو مجھے ابھی تک نہیں جانتے!"

ساگر نے نرم مگر گہری نگاہوں سے جواب دیا:

"عظیم… کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ میں تمہیں نہیں جانتا؟ میری روح تمہیں ازل سے جانتی ہے۔ مگر ہاں، یہ تمہاری تاریخ پیدائش میں نے تمہاری ڈائری میں پڑھی تھی۔"

ملیکہ نے حیرت سے پکارا:

"کیاااااا… ساگر! تم نے میری ڈائری پڑھی؟"

ساگر نے مسکراتے ہوئے کہا:

"ہاں… نہیں تو اچھا ہوا پڑھ لی، ورنہ تم کہاں بتاتیں، اور میں یہ لمحہ مِس کر دیتا!"

ملیکہ نے تھوڑی شرارتی مسکان کے ساتھ کہا:

"ساگر… تم واقعی بڑے عجیب ہو… میری ڈائری تک پڑھنے لگے!"

ساگر نے آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا:

" عجیب نہیں، یہ صرف تمہاری روح کو جاننے کا ایک طریقہ تھا

چاندنی کی ہلکی روشنی میں، باغ خاموش تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے اور دل کی دھڑکنیں محسوس ہو رہی تھیں۔ ساگر نے ملیکہ کی آنکھوں میں جھانک کر کہا:

"اچھا… اب بتاؤ، میری پیاری سی روح کو کیا تحفہ چاہیے؟"

ساگر مجھے کچھ نہیں چاہیے

ہاں مجھے معلوم ہے تم سب کچھ پہلے سے ہی خود میں رکھتی ہو مگر دیکھو یوں مجھے اس نیکی سے محروم نہیں رکھو

ساگر میں اُس جہان کا سفر کرنا چاہتی ہوں ،

جہاں محبت اور بھکتی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلتی ہے،

جہاں ہر ساز اور ہر قدم دل کی دھڑکن کی مانند گونجتا ہے۔

ایک سرزمین ہے جہاں ہر آواز، ہر ساز، ہر رقص، دل اور روح کی کہانی سناتا ہے۔

جہاں محبت کی دو روشنیوں کا رقص ہمیشہ جاری رہتا ہے… ایک پریم، ایک بھکتی۔

میں چاہتی ہوں کہ وہاں جا کر ان رازوں کو چھوؤں، ان لمحوں کو محسوس کروں…

"ایک دنیا ہے جہاں روشنی اور رقص، محبت اور صدا، دل اور روح کی زبان سے بات کرتے ہیں۔

میں چاہتی ہوں وہاں کے راستوں کو چھو کر اپنی روح کو دیکھوں…

ایک ایسی دنیا ہے جہاں وقت خاموش ہو جاتا ہے،

اور ہر سانس ایک نیا راز سناتا ہے۔

جہاں ہر دھن، ہر حرکت، ہر لمحہ، محبت کی زبان میں بات کرتا ہے۔

میری پیاری سی روح بعض راز دیکھنے سے زیادہ محسوس کرنے سے ملتے ہیں اور تم تو پہلے ہی سب خود میں سمیٹے بیٹھی ہوں

تو کیا آپکی پیاری سی روح کو اُسکا تحفہ مل سکتا ہے یا بس باتوں سے ہی کم چلانا ہے

ارے تحفہ کیا تم نے تو ایک نئے سفر کی پیشنگوئی کردی روحِ من

اور میری روح تو ازل سے ہی تمہاری ساتھی ہے جہاں تم وہاں ہم

اور ہر سانس، ہر لمحہ… مجھے یاد دلاتا ہے کہ تم میرے لیے صرف یہاں اور اب کی ضرورت نہیں… بلکہ ہمیشہ کی ضرورت ہو۔"

"اور اب… اس نئے سفر میں… ہر موڑ پر، ہر منزل پر…

میری روح تمہاری روح کے ساتھ رہے گی… ہمیشہ، ہر لمحہ، ہر سانس میں۔"

ملیکہ نے لفظوں کو, خیر آباد کہا اور صرف آنکھوں سے جواب دیا…

لفظ بے کار تھے، کیونکہ دونوں کی روحیں ایک دوسرے میں گھل چکی تھیں۔

اور جیسے ایک نیا صبح کا نور زمین اور آسمان کے درمیان پھیلتا ہے،

ویسے ہی یہ سفر جو نہ صرف زمین پر، بلکہ روح کے آسمانوں میں بھی جاری رہا۔

ہر لمحہ ایک نغمہ بن گیا، ہر سانس ایک دعا،

اور دو روحیں، جو ازل سے ایک تھیں، اب زندگی کے ہر لمحے میں ایک ہو چکی تھیں…

یہ صرف آغاز تھا، ایک نئے، الہامی اور لازوال سفر کا،

جہاں وقت کی قید نہیں، اور محبت کی حقیقت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

چاندنی کے نرم شعاعوں میں،

دو روحیں، جو ازل سے ایک تھیں،

اب پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی تھیں۔

ہر لمحہ ایک دعا، ہر نظر ایک راز،

اور ہر سانس ایک نیا سفر تھا—ایک ایسا سفر جو نہ ختم ہونے والا تھا،

صرف روحوں کے لیے، اور صرف الہامی محبت کے لیے۔

ایک سفر کا اختتام تھا تو دوسرے کا آغاز

دو روحیں ایک ہو گئیں، جیسے دریا سمندر میں گھل جائیں،

اور ہر کرن، ہر سایہ، سرگوشی کرتا ہے:

"وہ قریب ہے… قریب…"

اور ہر سانس، ہر لمحہ…منتظر

کہ ہمیں روح کی صورت میں یہ اپنا امر دینے والا

کب ظاہر ہوگا اپنا ایک نیا روپ لیے اُس وعدے کی تکمیل میں جو ہر خدا نے ہے مذہب میں کیا

جو ہر عقیدے کی نفی کر دے گا سوائے محبت کہ ✨

Credits:

EB🌷