صبح کی نرم کرنیں پہاڑوں کے دامن میں اتر رہی تھیں۔ ہوا میں سبز گھاس کی خوشبو اور جھرنوں کا ترنم گھلا ہوا تھا۔ ملیکہ سفید لباس میں ایک چشمے کے کنارے بیٹھی تھی، اس کے ہاتھوں میں نیلے کنول کا پھول تھا۔ ساگر اُس کے قریب آیا تو اُس کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی تھی، جیسے وہ کسی اور راز سے واقف ہوچکا ہو۔
ملیکہ نے آہستہ کہا:
"ساگر... ہم نے تورات، زبور اور انجیل کے گہرے راز دیکھ لیے... مگر اب میرا دل چاہتا ہے ہم اُن کی طرف بڑھیں جو ’واحد‘ کو سچ مانتے ہیں، جن کے اشلوک بار بار ایک ہی بات دہراتے ہیں: ایک خدا، ایک نام۔"
ساگر مسکرایا اور اُس کی بات پوری کرتے ہوئے بولا:
"ہاں ملیکہ، گُرو گرنتھ صاحب... جہاں سب سے پہلی صدا ہے: ’اک اونکار‘۔"
فضا میں ایک عجیب سکوت چھا گیا۔ جیسے پہاڑ، دریا اور ہوا سبھی اُس وحدت کی گواہی دے رہے ہوں۔
ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھا، اُس کی پلکوں پر نمی تھی۔
"یہ وحدت ہمیں اور قریب لا رہی ہے ساگر... کیا تم محسوس کرتے ہو؟"
ساگر نے آنکھیں بند کیں اور بولا:
"ہاں... جیسے سارا کائنات ایک ہی ساز ہے، اور ہم دونوں اُس کی تان میں جُڑ رہے ہیں۔"
گرو گرنتھ صاحب کی پہلی آواز:"
اصل اشلوک (گرمکھی):
ੴ ਸਤਿ ਨਾਮੁ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ ਨਿਰਭਉ ਨਿਰਵੈਰੁ
ਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿ ਅਜੂਨੀ ਸੈਭੰ ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥
اردو ترجمہ:
"اک اونکار — ایک ہی خدا ہے۔ اُس کا نام سچا ہے۔ وہ خالق ہے،
بے خوف ہے، بے عداوت ہے،
ازل سے ہے، جنم سے پرے ہے،
اپنے آپ سے موجود ہے، اور گرو کی کرپا سے پہچانا جاتا ہے۔"
ملیکہ نے یہ اشلوک سنا تو اُس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ ابھری، اور آنکھوں سے روشنی چھلکنے لگی۔
"ساگر… یہ کتنی سادہ مگر کتنی گہری حقیقت ہے۔ جیسے ہمارے دلوں کی دھڑکن بھی ایک ہی نام میں سمٹ آئی ہو۔"
ਆਦਿ ਸਚੁ ਜੁਗਾਦਿ ਸਚੁ ॥
ਹੈ ਭੀ ਸਚੁ ਨਾਨਕ ਹੋਸੀ ਭੀ ਸਚੁ ॥੧॥
اردو ترجمہ:
"وہ شروع سے سچا ہے،
زمانوں سے سچا ہے،
اب بھی سچا ہے،
اور نانک کہتا ہے، ہمیشہ ہمیشہ سچا ہی رہے گا۔"
ملیکہ نے یہ اشلوک پڑھتے ہوئے کہا:
"ساگر... یہ سچائی وقت سے ماورا ہے، نہ ابتدا میں مٹ سکی، نہ اختتام پر مٹے گی۔"
ساگر نے دھیرے سے جواب دیا:
"ہاں ملیکہ... یہی وہ ابدی حقیقت ہے جس کی تلاش میں ہم چل پڑے ہیں۔ اور دیکھو، یہ ہر صحیفے میں ایک ہی صدا بن کر گونجتی ہے۔"
گرمکھی:
ਸਿਮਰਿ ਮਨ ਨਾਮੁ ਸਦਾ ਸੁਖੁ ਹੋਈ ॥
اردو ترجمہ:
"اے دل! خدا کے نام کو یاد کر، یہی وہ سکون ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے۔"
ملیکہ نے کہا:
"ساگر، دیکھو... دل کا سکون نہ دولت میں ہے نہ دنیاوی رشتوں میں۔ یہ صرف اُس کے نام میں ہے۔"
ساگر نے سر جھکا کر کہا:
"ہاں ملیکہ... شاید اسی لیے ہر کتاب ہمیں بار بار ذکر کی طرف لے جاتی ہے۔"
۲۔ اشلوک: ’’سیوا‘‘ (خدمت)
گرمکھی:
ਸੇਵਾ ਕਰਤ ਹੋਇ ਨਿਹਕਾਮੀ ॥ ਤਿਸ ਕਉ ਹੋਤ ਪਰਾਪਤਿ ਸੁਆਮੀ ॥
اردو ترجمہ:
"جو خدمت بے غرض ہو کر کی جاتی ہے، اُس میں ہی مالک کی حضوری ملتی ہے۔"
ساگر نے کہا:
"کتنی عجیب بات ہے ملیکہ... کہ سچّا عشق صرف عبادت میں نہیں، بلکہ دوسروں کی خدمت میں بھی ملتا ہے۔"
ملیکہ نے جواب دیا:
"یہی وحدت ہے ساگر، جو انسان کو انسان سے جوڑ دیتی ہے۔"
۳۔ اشلوک: ’’پیار‘‘ (محبت)
گرمکھی:
ਜਿਨਿ ਪ੍ਰੇਮ ਕੀਓ ਤਿਨ ਹੀ ਪ੍ਰਭੁ ਪਾਇਓ ॥
اردو ترجمہ:
"صرف وہی خدا کو پاتا ہے، جو سچا پیار کرتا ہے۔"
ملیکہ کی آنکھیں ساگر سے ملیں اور وہ دھیرے سے بولی:
"ساگر... شاید یہی وہ راز ہے جس کی تلاش ہم دونوں کر رہے ہیں... کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ محبت ہے۔"
ساگر نے اُس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا:
"ہاں ملیکہ... اور یہ محبت ہمیں ایک دوسرے میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔"
ساگر نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
"ملیکہ... یہ تمام اشلوک صرف کتاب کے الفاظ نہیں، یہ تو بابا نانک کی صدا ہیں، جو پانچ سو سال پہلے بھی گونج رہی تھیں اور آج بھی ہمارے دلوں میں ہیں۔"
ملیکہ نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا:
"بابا نانک... میں نے صرف اتنا سنا ہے کہ وہ وحدت اور برابری کی بات کرتے تھے۔ مگر تم بتاؤ ساگر، وہ اصل میں تھے کون؟"
ساگر نے دھیرے سے مسکرا کر کہا:
"وہ وہی تھے جنہوں نے کہا کہ مذہب دیواریں نہیں کھینچتا، بلکہ سب کو ایک خدا کے سائے میں جوڑتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی اونچا نیچا نہیں، کوئی ہندو یا مسلمان نہیں — سب ایک ہی نور کے حصے ہیں۔"
ملیکہ نے پلکیں جھکا لیں اور مدھم آواز میں کہا:
"یہی تو بات میرے دل کو سب سے زیادہ چھوتی ہے... کہ ایک خدا، ایک انسانیت۔ جیسے ہم سب ایک ہی دل کی دھڑکن ہیں۔"
ساگر نے آہستگی سے اُس کے قریب ہوتے ہوئے کہا:
"ہاں ملیکہ... بابا نانک نے کہا تھا: ’نہ کوئی ہندو نہ کوئی مسلمان، سب ایک ہی رب کے بندے ہیں۔‘ یہ وہ صدا ہے جو وقت کو بھی چیر کر آتی ہے۔"
ملیکہ نے ساگر کی آنکھوں میں جھانکا اور بولی:
"تو پھر ساگر... کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ بابا نانک بھی ہمارے سفر کا رہبر ہیں؟"
ساگر نے سر ہلایا:
"ہاں... وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محبت ہی اصل رستہ ہے، اور سچائی ہی اصل دین۔"
ملیکہ نے ساگر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"ساگر... مجھے یہ بات حیران کرتی ہے کہ بابا نانک نے اُس وقت یہ صدا دی جب دنیا مذہب اور ذات پات میں بٹ چکی تھی۔"
ساگر نے اثبات میں سر ہلایا:
"ہاں... اُنہوں نے سب سے پہلے یہی کہا کہ انسانوں کو فرقوں اور ذاتوں میں مت بانٹو۔ انہوں نے کہا: سب ایک ہی نور کے حصے ہیں۔"
ملیکہ کی آنکھیں چمکنے لگیں:
"کتنی انقلابی سوچ تھی یہ... کہ نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا۔ سب برابر ہیں۔"
ساگر نے مسکرا کر کہا:
"اور دیکھو ملیکہ، اُن کی تعلیم میں محبت صرف خدا سے نہیں، انسان سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا: جس نے انسان سے محبت کی، اُس نے ہی حقیقت میں خدا کو پایا۔"
ملیکہ نے دھیرے سے جواب دیا:
"ہاں... اور خدمت؟"
ساگر نے کہا:
"بابا نانک نے خدمت کو سب سے بڑی عبادت قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کھانا صرف اپنے لئے نہیں، دوسروں کے لئے بھی رکھو۔ اور اسی لیے آج بھی ہر گردوارے میں لنگر چلتا ہے — جہاں کوئی بھوکا نہیں رہتا۔"
ملیکہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے:
"ساگر... کیا یہ ممکن ہے کہ ہم بھی اپنی محبت کو خدمت میں ڈھال دیں؟ کہ ہمارا عشق صرف دو دلوں تک نہ رہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی روشنی بن جائے؟"
ساگر نے اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا:
"ہاں ملیکہ... یہی تو نانک کی صدا ہے۔ محبت، خدمت اور برابری — یہ تینوں مل کر انسان کو اصل خدا تک پہنچاتے ہیں۔"
ساگر نے چشمے کا پانی اپنی ہتھیلی پر لیا اور بولنے لگا:
"ملیکہ... جانتی ہو بابا نانک نے بچپن ہی سے سوال کرنا شروع کر دیا تھا؟ وہ پوچھتے تھے کہ یہ عبادت صرف رسومات تک محدود کیوں ہے، جبکہ خدا تو ہر جگہ ہے۔"
ملیکہ نے تجسس سے کہا:
"واقعی؟ تو لوگوں نے اُنہیں کیسے دیکھا؟"
ساگر نے آہستہ سے کہا:
"شروع میں شاید سب حیران تھے، کچھ مخالف بھی۔ مگر پھر اُن کی صدا نے دل بدل دیے۔ وہ نہ ہندو کہلائے نہ مسلمان... بس خدا کے بندے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی رب ہے، اور اُس کے آگے سب برابر ہیں۔"
ملیکہ نے دھیرے سے کہا:
"یہ کتنی بڑی بات تھی اُس زمانے میں... جب لوگ ذات پات اور مذہب کی دیواروں میں بندھے ہوئے تھے۔"
ساگر نے سر ہلا کر جواب دیا:
"ہاں... نانک جی نے لوگوں کو دریا کے کنارے، کھیتوں اور جنگلوں میں بٹھا کر گیت گائے۔ وہ کہتے تھے: خدا کتابوں میں قید نہیں، وہ ہر ذرے میں بستا ہے۔"
ملیکہ کی آنکھیں بھیگ گئیں:
"ساگر... مجھے لگتا ہے نانک جی صرف ایک مذہبی رہنما نہیں تھے، بلکہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے۔"
ساگر مسکرایا:
"ہاں ملیکہ... اُنہوں نے اپنے گیتوں کو بانی کہا، اور وہ بانی آج بھی زندہ ہے۔ یہ گیت صرف مذہب کی نہیں، بلکہ انسان کی پیاس بجھاتے ہیں۔"
ملیکہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا:
"کاش ہم بھی اُن کے قدموں میں بیٹھ سکتے... اور اُن کی آواز کو براہِ راست سن سکتے۔"
ساگر نے آسمان کی طرف اشارہ کیا:
"ملیکہ... اُن کی آواز اب بھی یہیں ہے۔ ہر بار جب ہم ’اک اونکار‘ کہتے ہیں، ہر بار جب ہم محبت اور خدمت کرتے ہیں، ہم نانک کو محسوس کرتے ہیں۔"
ساگر نے کہا:
" نانک صرف ایک انسان کا نام نہیں رہا، بلکہ ہر اُس دل کا نام ہے جو وحدت اور محبت کو مانے۔ اس لیے سکھ روایت میں کہا جاتا ہے: گرو نانک ہی نہیں، ہر گرو دراصل نانک ہیں۔ جیسے نور ایک ہی ہے، مگر چراغ کئی۔"
ملیکہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی:
"کیا خوبصورت بات ہے ساگر... کہ نانک کا مطلب صرف ایک شخص نہیں، بلکہ ایک صدا، ایک سلسلہ ہے۔"
ساگر نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا:
"ہاں ملیکہ... یہی وجہ ہے کہ سکھ ہر گرو کو ’نانک‘ کہتے ہیں۔ جیسے گرو انگد نانک، گرو امر داس نانک... سب ایک ہی نانک کی روشنی کو آگے بڑھاتے ہیں۔"
ملیکہ نے دھیرے سے کہا:
"تو ساگر... جب ہم ’نانک‘ کہتے ہیں تو ہم صرف ایک نام نہیں بولتے، ہم اُس روشنی کو پکار رہے ہوتے ہیں جو ہر دل کو جگا دے۔"
ساگر نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
"اور وہی روشنی ہمارے اس سفر کی رہنما ہے، ملیکہ۔"
ملیکہ نے ساگر کی طرف دیکھ کر کہا:
"ساگر... ہم نے تورات، زبور اور انجیل میں بار بار سنا کہ ایک آنے والا ہے، ایک نجات دہندہ، ایک وعدہ۔ کیا نانک جی نے بھی اُس آنے والے کی خبر دی؟"
ساگر لمحہ بھر خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا:
"ملیکہ... بابا نانک نے کسی ایک آنے والے شخص کا ذکر نہیں کیا۔ اُنہوں نے ہمیشہ یہ کہا کہ خدا ہر وقت موجود ہے، ہر دل میں ہے، اور اُس تک پہنچنے کے لئے ہمیں کسی ایک شخصیت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔"
ملیکہ نے حیرت سے کہا:
"تو اُنہوں نے آنے والے کا انکار کیا؟"
ساگر نے دھیرے سے مسکرا کر کہا:
"نہیں... اُنہوں نے اس تصور کو ایک نئی جہت دی۔ اُنہوں نے کہا: جو بھی سچ، پیار اور خدمت کے راستے پر چلے، اُس کے اندر ہی خدا کا نور ظاہر ہو جاتا ہے۔ گویا ’وہ آنے والا‘ صرف ایک نہیں، بلکہ ہر اُس دل میں اُترتا ہے جو پاک اور محبت والا ہو۔"
ملیکہ نے مدھم لہجے میں کہا:
"تو ساگر... نانک جی کے نزدیک ’وہ آنے والا‘ ایک ہی وقت میں سب میں ہے؟"
ساگر نے اثبات میں سر ہلایا:
"ہاں ملیکہ... وہ کہتے تھے کہ خدا کسی دور کے انتظار میں نہیں، وہ تو ابھی ہمارے ساتھ ہے۔ اور یہی وحدت ہے: ایک خدا، ایک انسانیت۔"
ملیکہ نے گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
"کیا عجیب بات ہے... کہ سب صحیفے اُس ایک آنے والے کی خبر دیتے ہیں، اور نانک کہتے ہیں کہ وہ آ چکا ہے — ہر دل میں، ہر لمحے میں۔"
ساگر نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
"ہاں ملیکہ... شاید یہی ہمارے سفر کا راز ہے۔ کہ ہم اُس آنے والے کو باہر نہیں، اپنے اندر تلاش کریں۔"
ملیکہ نے سوچتے ہوئے کہا:
"ساگر... تورات میں آنے والے کا وعدہ ہے، زبور میں اُس کی نغمگی ہے، انجیل میں اُس کی خوشخبری... مگر نانک جی کہتے ہیں کہ وہ آنے والا ہمارے اندر ہے۔ تو کیا یہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟"
ساگر نے اثبات میں سر ہلایا:
"ہاں ملیکہ... تورات نے کہا کہ ایک نجات دہندہ آئے گا، زبور نے اُسے خالق کا محبوب بتایا، انجیل نے کہا کہ وہ روشنی ہے جو دنیا کو نجات دے گی۔"
وہ لمحہ بھر رُکا اور پھر بولا:
"مگر نانک جی نے بتایا کہ وہ روشنی کسی ایک شخص تک محدود نہیں، بلکہ ہر انسان کے اندر ہے۔ اُنہوں نے کہا: اک اونکار... ایک خدا، ایک نور، جو سب میں سانجھا ہے۔"
ملیکہ کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کا ملا جلا رنگ تھا۔
"تو ساگر... کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ مختلف کتابیں ایک ہی بات کو مختلف انداز میں بیان کر رہی ہیں؟"
ساگر نے مسکرا کر کہا:
"بالکل! جیسے ایک ہی آفتاب کو کوئی سورج کہے، کوئی شمش، کوئی سوریا... مگر روشنی سب ایک ہی دیتی ہے۔"
ملیکہ کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ آگئی:
"تو پھر... یہ سب پیشین گوئیاں اُس ایک سچائی کی طرف تھیں جسے نانک نے لفظوں میں نہیں، حقیقت میں جیا۔"
ساگر نے اُس کے قریب آ کر کہا:
"ہاں ملیکہ... وہ آنے والا صرف کسی ایک قوم یا مذہب کے لئے نہیں، بلکہ ہر دل کے لئے ہے۔ اور یہی نانک کا پیغام ہے: اگر محبت کرو، خدمت کرو، سچ جیو — تو وہ آنے والا تمہارے اندر ہی ظاہر ہو جائے گا۔"
ملیکہ نے سرگوشی کی:
"ساگر... شاید یہی وہ جواب ہے جس کی تلاش میں ہم پہاڑوں سے گزر رہے ہیں۔"
ساگر نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:
"ہاں ملیکہ... یہی وحدت ہمارا سفر ہے۔"
بانی (گرمکھی):
"ਏਕੁ ਪਿਤਾ ਏਕਸ ਕੇ ਹਮ ਬਾਰਿਕ ॥
ਤੂ ਮੇਰਾ ਗੁਰ ਹਾਈ ॥"
اردو ترجمہ:
"سب کا ایک ہی باپ ہے، اور ہم سب اُس کے بچے ہیں۔
اے میرے خدا! تو ہی میرا رہبر ہے۔"
یہ الفاظ پہاڑوں کی فضا میں گونجنے لگے۔ ملیکہ نے ساگر کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملا دی، اور دونوں کی دعائیہ صدائیں چشمے کے پانی اور ہواؤں کے سنگیت میں گھل گئیں۔
ملیکہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اور اُس نے ساگر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا:
"ساگر... یہ وحدت دل کو چھو لیتی ہے، جیسے کوئی ٹوٹے ہوئے چراغوں کو جوڑ دے۔"
ساگر نے دھیرے سے کہا:
"ہاں ملیکہ... نانک ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی روشنی کے حصے ہیں۔ نہ کوئی اونچا نہ کوئی نیچا... سب خدا کے بچے۔"
اور پھر، جیسے پوری وادی اُن کی تائید کر رہی ہو، فضاؤں میں ایک ہی صدا گونجی:
چشمے کے کنارے خاموشی میں ساگر نے دھیرے سے کہا:
"ملیکہ... ہم نے تورات میں پڑھا، زبور میں سنا، انجیل میں پایا کہ ایک آنے والا ہے۔ ہر کتاب میں اُس کی جھلک ہے۔"
ملیکہ نے تجسس سے پوچھا:
"لیکن نانک جی نے تو کہا کہ خدا ہر دل میں ہے۔ تو پھر یہ آنے والا کون ہے؟"
ساگر نے آہستہ آہستہ جواب دیا:
"ہاں... یہی راز ہے۔ دیکھو، یہ آنے والا کوئی ایک شخص بھی ہو سکتا ہے، جیسے انبیاء اور اوتار آتے رہے... لیکن نانک جی نے کہا کہ اصل میں آنے والا نور ہے، وہ الوہیت ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی صورت ظاہر ہوتی ہے۔"
ملیکہ نے سوچتے ہوئے کہا:
"تو پھر... کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس آنے والے کا وعدہ کتابیں کرتی ہیں، وہ کسی ایک نسل یا مذہب تک محدود نہیں؟"
ساگر نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا:
"بالکل، ملیکہ! وہ آنے والا سب کے لئے ہے۔ کبھی موسیٰ کی لاٹھی میں ظاہر ہوا، کبھی داؤد کے نغموں میں، کبھی عیسیٰ کی محبت میں، اور بابا نانک نے بتایا کہ وہ روشنی تو ہر دل میں ہے۔"
ملیکہ نے دھڑکتے دل سے کہا:
"ساگر... اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ آنے والا وقت سے بندھا ہوا کوئی کردار نہیں... بلکہ ایک دائمی سچ ہے جو بار بار لوٹ کر آتا ہے۔"
ساگر نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"ہاں... اور شاید ہم بھی اسی کی تلاش میں ہیں۔ وہ آنے والا باہر کہیں نہیں، وہ تو ہمارے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔"
ملیکہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اُس نے سرگوشی کی:
"ساگر... مجھے لگتا ہے وہ آنے والا تو ابھی ہمارے بیچ ہے، اس خاموشی میں، اس دعا میں، اس عشق میں۔"
ساگر نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر کہا:
"اور یہی سب سے بڑا راز ہے، ملیکہ... وہ آنے والا دراصل وہی ہے جو ہمیشہ سے ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔"
ساگر نے اپنے بیگ سے وہ پرانا نسخہ نکالا جو وہ پہاڑوں کے سفر میں ساتھ لایا تھا۔ چراغ کی مدھم روشنی میں اُس نے اوراق کھولے۔ کاغذ پر صدیوں پرانے الفاظ جھلک رہے تھے۔
ساگر نے آہستہ سے پڑھا:
"دیکھو، دن آنے والے ہیں، جب میں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ اگاؤں گا؛ وہ بادشاہ کی طرح حکمت سے راج کرے گا اور زمین پر انصاف کرے گا۔"
(یرمیاہ 23:5)
ملیکہ کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی:
"ساگر... یہ تو بالکل زبور اور انجیل کی پیشین گوئیوں جیسا ہے!"
ساگر نے سر ہلایا اور کہا:
"ہاں... اور یہی تو سب صحیفوں کا ربط ہے۔ ایک آنے والے کی خوشخبری — مگر دیکھو، نانک جی نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ وہ صادق شاخ صرف ایک وقت یا ایک قوم تک محدود نہیں۔ یہ انصاف اور محبت کا اصول ہے، جو ہر دور میں دوبارہ جنم لیتا ہے۔"
ملیکہ نے جذبات سے کہا:
"تو ساگر... یہ آنے والا کبھی ایک نبی کی شکل میں آتا ہے، کبھی ایک اوتار کی صورت میں ۔"
ساگر... کیا تمہیں نہیں لگتا... کہ ہم یہ سب پڑھتے پڑھتے دراصل اپنے ہی دل کو پڑھ رہے ہیں؟"
ساگر نے آنکھیں بند کر کے کہا:
"ہاں ملیکہ... شاید اصل وہی ہے جو ہمارے اندر بیدار ہو جائے۔"
ہم سب مذاہب کا سفر کر رہے ہیں، سب کتابوں کے راز پڑھ رہے ہیں، کیونکہ ہم اُس ایک کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہی جس کی خوشبو ہر صحیفے میں ہے، اور جس کی یاد ہر دعا میں۔"
ملیکہ نے آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہوئے کہا:
"کیا عجیب بات ہے... لگتا ہے سب راستے، سب مذاہب، سب کائناتی صدائیں ایک ہی طرف جا رہی ہیں۔"
ساگر نے دھیرے سے کہا:ہاں... وہی منزل ہے، ملیکہ۔ ہم اُس ایک کا انتظار کر رہے ہیں — جسکا انتظار عبادت ہے۔"
یہی وہ راز ہے جس کی گونج ہمیں ہر جگہ ملتی ہے۔ اور نانک جی بھی یہی کہتے ہیں:
'ساچُ راچا جنُ ہرِ نامੇ ॥'
یعنی جو دل خدا کے نام میں رچ بس جائے، وہی اصل منتظر ہے۔"
ملیکہ نے ساگر کی آنکھوں میں جھانکا اور دھیرے سے کہا:
"تو ہم صرف مسافر نہیں ساگر... ہم اُس انتظار کے وارث ہیں جو صدیوں سے چل رہا ہے۔"
ہم صدیوں کے مسافر ہیں، ملیکہ... اُس ایک کے منتظر۔ ہر کتاب، ہر مذہب، ہر پیغام ہمیں صرف اُسی کی طرف لے جا رہا ہے۔"
ملیکہ کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ اُس نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں ستارے جگمگا رہے تھے جیسے فرشتوں کے چراغ جل رہے ہوں۔ اُس کی آواز لرز گئی:
"ساگر... یہ انتظار میرا وجود جلا رہا ہے، مگر ساتھ ہی یہی انتظار میرا ایمان ہے۔"
اسی لمحے ہوا تیز ہوئی، درختوں کی شاخیں لرز اٹھیں، اور وادی میں ایک ان دیکھی صدا گونجی:
"صبر کرو، منتظر رہو... کیونکہ وہ آنے والا ضرور آئے گا۔"
ساگر اور ملیکہ دونوں نے گھٹنوں کے بل زمین پر جھک کر آنکھیں بند کر لیں۔ اُن کے لبوں پر ایک ہی دعا تھم گئی:
"اے رب... ہمیں اُس کے قدموں کی چاپ سنا دے... اُس کے نور کی جھلک دکھا دے... کیونکہ ہماری روحیں اُسی کی پیاسی ہیں۔"
اور یوں، رات کے سناٹے میں اُن کی دعا آسمان کی وسعتوں میں تحلیل ہو گئی۔
انتظار شدت میں بدل گیا، اور شدت عبادت میں۔
وہ آنے والا کوئی کل نہیں،
وہ تو ابھی ہے، اسی گھڑی ہے۔
سانسوں کی سرگوشی میں چھپا،
دل کی دھڑکن کی تسبیح میں گم۔
ستاروں کی روشنی میں جھلکتا،
چشموں کی سرگم میں بہتا۔
وہ آنے والا کوئی دور نہیں،
وہ تو ہمیشہ سے تھا،
ہمیشہ ہے،
اور ہمیشہ رہے گا۔
Credits:
EB🌷